یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی ہیں۔ اس لمبی دستور سازی کا نادرست ہونا اسی سے ثابت ہے کہ 26 نومبر 1949 کے بعد سے اب تک اس میں تقریباً 80 ترمیمات ہو چکی ہیں اور مزید ترمیم کا مطالبہ جاری ہے۔ ان سب کے باوجود یہ ”جامع“ دستور ملک کو ترقی کے راستہ پر آگے لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ڈاکٹر راجندر پر شاد انڈیا کی دستور ساز اسمبلی کے صدر (49-1946) تھے۔ یہ دستور اگرچہ انھیں کی زیر صدارت بنا اور اس کی تکمیل کے بعد انھوں نے 26 نومبر 1949 کو اس پر اپنا دستخط کیا۔ تاہم وہ لمبی دستور سازی کے خلاف تھے : ڈاکٹر راجندر پر شاد نے دستور ساز اسمبلی میں اپنا الوداعی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ دستور میں ہر چیز لکھی نہیں جا سکتی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ صحت مند روایات قائم کی جائیں گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس یہ ذہن بن گیا کہ ہر چیز کو دستور میں لکھ دیا جائے (ہندوستان ٹائمز 24 مئی 1995) کسی دستور کی غیر ضروری طوالت اس میں غیر ضروری دفعات کو شامل کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہندوستانی دستور میں اس قسم کی کثیر غیر ضروری دفعات شامل ہیں انھیں میں سے ایک ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں (directive principles) کی دفعہ 44 ہے جو مشترک سول کوڈ سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے گی کہ انڈیا کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ حاصل ہو جائے : دستور کی یہ دفعہ اتنا ہی غیر دستوری ہے جتنا یہ کہنا کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں فہرست طعام (uniform menu) وجود میں آجائے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ ملک کے تمام مرد و عورت اور بوڑھے اور بچے ایک ہی قسم کا کھانا کھائیں اور ایک ہی قسم کا لباس پہنیں۔ اسی طرح یہ بھی یقینی طور پر ممکن نہیں ہے کہ ایک بڑے ملک کے تمام مرد و عورت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader