یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے (دی پائنیر ۵ مئی (۱۹۹۵) اس کو اپنی حد سے گزر کر پارلیمنٹ کی حد میں داخل ہونا قرار دیا : اسی پس منظر میں دی ہندوستان ٹائمز (۱۲ مئی ۱۹۹۵) نے اپنے ایڈیٹوریل میں فیصلہ پر تبصرہ کا آغاز اس جملہ سے کیا تھا کہ ــــــــ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں بار بار یہ رجحان ظاہر کیا ہے کہ وہ ایسے مقامات میں گھس پڑتی ہے جہاں داخل ہونے سے فرشتے بھی گھبراتے ہیں : خود دستور کے مطابق ، یونیفارم سول کوڈ کو ایکٹ کی صورت دینے کا تعلق تمام تر حکومت سے ہے۔ اور حکومت کا حال یہ ہے کہ ۱۹۵۶ میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے صاف طور پر کہا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں اس کو تکمیل تک پہنچاؤں : یہی بات اس کے بعد اندرا گاندھی نے بھی کہی۔ اور اب موجودہ پرائم منسٹر پی وی نرسمہا راؤ نے بھی یہی بات کہہ دی ہے (ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی ، ۲۸ جولائی ۱۹۹۵، صفحہ) اب یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو عملاً یونیفارم سول کوڈ لانا ہے وہ تو اس سے بے تعلقی ظاہر کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اختیار میں سرے سے اس کا معاملہ نہیں وہ اس کے حق میں پر جوش تقریریں کر رہے ہیں۔ اس قسم کی لفظی کارروائی صرف وقت کا ضیاع ہے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ مذہبی آزادی ایک لازمی حق جو لوگ دستور کی دفعہ ۴۴ کا حوالہ دے کر یونیفارم سول کوڈ کی وکالت کرتے ہیں۔ انھوں نے غالباً اس پر بہت کم غور کیا ہے کہ خود اسی دستور کی دفعہ ۲۵ میں اس کی تردید موجود ہے۔ دستور ہند کی دفعہ ۲۵ میں ہندوستان کے ہر شہری کو ضمیر اور مذہبی عمل اور مذہبی تبلیغ کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد مساوی طور پر آزادی ضمیر کا حق رکھتے ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر مذہب کا اقرار کریں، اس پر عمل کریں اور اس کی تبلیغ کریں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader