بر تر سطح سے کام کرنے کا ذھن پیدا کیئے
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
بر تر سطح سے کام کرنے کا ذھن پیدا کیئے کسی شہر میں کپڑے کی دوکان نہ ہو تو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ ایک سنہری موقع ہے جس کو استعمال کر کے کوئی شخص شہر میں ایک کامیاب دوکان کا مالک بن سکتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک اس سے بھی زیادہ بڑا خلا ہے جس کو ابھی تک کسی نے استعمال نہیں کیا۔ ہمارے ملک کے بھرے ہوئے دفاتر اور ہمارے پر رونق بازار جہاں ہر وقت خرید و فروخت کے ہنگامے جاری رہتے ہیں اپنی ساری ہماہمی کے باوجود ابھی تک خالی ہیں۔ آپ بازار سے کوئی ملک کی بنی ہوئی چیز خریدیں، چند ہی روز کے تجربے کے بعد آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کو اپنی پسند کی چیز نہیں ملی، آپ اپنے کام کے لیے ملازم رکھیں، بہت جلد آپ محسوس کریں گے کہ آپ جیسا کارکن چاہتے ہیں، آپ کا ملازم ان اوصاف میں پورا نہیں اترا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بازار اگرچہ سامانوسے پٹے ہوئے ہیں مگر وہ ان چیزوں سے خالی ہیں جو حقیقتاً گاہک کو مطمئن کرنے والی ہوں۔ اسی طرح وہ جگہیں جہاں آدمی کو کام ملتا ہے اگرچہ بظاہر بھری ہوئی ہیں۔ مگر انھیں اب بھی ایسے کارکنوں کا انتظار ہے جو ان کی مرضی کے مطابق ان کا کام پورا کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سارا ملک ایک عظیم خلاسر دوچار ہے، اور یہ خلا اعلیٰ مصنوعات اور بہتر کارکردگی کا خلا ہے۔ اگر کوئی گروہ ہو جو محنت اور عملی دیانتداری میں اعلیٰ معیار دکھا سکے، جو مثال کے طور پر جرمنی اور کارکردگی کا خلاء پُر کر کے آپ اپنے لئے جگہ حاصل کر سکتے ہیں۔ جاپان میں نظر آتا ہے تو وہ آناً فاناً ملک کی اقتصادیات پر چھا جائے گا اور جو گروہ اقتصادیات پر قابض ہو جائے وہ لازمی نتیجہ کے طور پر دوسرے شعبوں پر بھی قابض ہو کر رہتا ہے۔ دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ ________ جس آسامی کے لیے بی اے کی قابلیت کی شرط ہو اور بی اے والوں نے درخواستیں دے رکھی ہوں ۔ وہاں آپ بھی اپنی بی اے کی ڈگری لے کر پہنچ جائیں اور جب آپ کو نہ لیا جائے تو بحث کریں کہ کیوں آپ کے مقابلے میں دوسرے امیدوار کو ترجیح دی گئی جبکہ دونوں یکساں طور پر گریجویٹ تھے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ جہاں لوگ بی اے کی سندیں پیش کر رہے ہوں وہاں آپ ماسٹر ڈگری لے کر پہنچیں جہاں لوگ مطابق شرائط قابلیت کی بنیاد پر اپنا حق مانگ رہے ہوں وہاں آپ بر تر از شرائط قابلیت دکھا کر اپنا حق تسلیم کرائیں ۔ یہی دوسرا طریقہ زندگی کا اصل طریقہ ہے۔ تمام بڑی بڑی ترقیاں اور کامیابیاں انھیں کے لیے مقدر ہیں جو اس دوسرے طریقے کے مطابق کام کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader