Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر منسوخ نہیں

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

(سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1644)۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ صبرِ مومن کا بھروسہ ہے: اَلصَّبْرُ مَعْوْلُ الْمُسْلِمِ (الترغیب والترہیب، حدیث نمبر 6)۔ صبر کے لغوی معنیٰ رکنے کے ہیں۔ امام راغب نے صبر کی حقیقت ان لفظوں میں بیان کی ہے: اَلصَّبْرُ حَبْسُ النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيْهِ الْعَقْلُ (المفردات للراغب الاصفہانی، صفحہ 474)۔ یعنی، صبر اس چیز سے نفس کو روہنے کا نام ہے جس کا عقل تقاضا کرے۔ عربی میں کہا جاتا ہے : صَبَرْتُ نَفْسِي عَلَى ذٰلِكَ الْأَمْرِ، أَيْ حَبَسْتُهَا (مقاییس اللغۃ، جلد 3، صفحہ 329)۔ یعنی، میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے روک دیا۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں موافق پہلوؤں کے ساتھ ناموافق پہلو بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لیے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہاں اپنی خواہش کو دبا کر اپنی عقل کورہنما بنانا پڑتا ہے۔ یہاں ایک چیز کو لینے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہاں آج پر توجہ دینے کے لیے کل کو مستقبل کے خانہ میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یہاں خلاف مزاج باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں رد عمل کی نفسیات سے آزاد رہ کر مثبت سوچ کے تحت اپنا منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ ان تمام چیزوں کا تعلق صبر سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں صبر کے بغیر کبھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ دنیوی کاموں کی طرح، دینی کام کے لیے بھی صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس زمین پر اور جس انسانی ماحول میں ایک دنیا دار کام کرتا ہے، اسی زمین پر اور اسی انسانی ماحول میں دیندار بھی اپنا عمل کرتا ہے۔ اس لیے یہاں دینی مقصد کو پانے کے لیے بھی صبر کا طریقہ اختیار کرناضروری ہے۔ صبر کے بغیر کوئی بھی دینی کام نتیجہ خیز طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page