Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ فطرت کا قانون ہے جس کو خود خالقِ فطرت نے مقرر کیا ہے۔ ایسی حالت میں سازش کے خلاف چیخ و پکار کرنا ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو داخلی طور پر مستحکم بنایا جائے، خود اپنے اندر زیادہ سے زیادہ صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ پیدا کی جائے۔ اس کے بعد شکایت کے اسباب اس طرح ختم ہو جائیں گے، جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، زندگی میں ہمیشہ دو مختلف قسم کی چیزیں موجود رہتی ہیں — مسائل (problems) اور مواقع (opportunities)۔ جس طرح زندگی میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں، اسی طرح زندگی میں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دانش مندی کا طریقہ، اسلام کے مطابق، یہ ہے کہ — مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ مسائل سے الجھنا، صرف اُس وقت کو ضائع کرنا ہے جو اس دنیا میں ہم کو زندگی کی مثبت تعمیر کے لیے ملا ہوا ہے۔ یہی دانش مندی ہے اور یہی اسلام کا طریقہ بھی۔ مومن کا کنسرن ایک مومن کا سب سے بڑا کنسرن (concern) یہ ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کو جنت میں داخلہ ملے، وہ اپنی ابدی زندگی میں جنت کا باشندہ بن کر رہ سکے۔ جنت میں داخلہ کس کو ملے گا، اس سوال کا جواب قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: ذٰلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكّٰى (20:76)۔ یعنی، جنت اس کے لیے ہے جو اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ تزکیہ کے حصول کا اصل ذریعہ مثبت طرزِ فکر ہے۔ مثبت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page