سنتِ رسول
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈی لنکنگ ــــ ایک سنت رسول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت وہ ہے، جس کو پالیسی آف ڈی لنکنگ (policy of delinking) کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مکہ میں آپ نے اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت مکہ اہل شرک کے قبضے میں تھا۔ انھوں نے کعبہ کو 360 بتوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ کعبہ میں آنے والے زائرین اور اس میں موجود بتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ یعنی بت پرستی اور کعبہ کے قریب بت پرستوں کے اجتماع میں فرق کرنا۔ اس طرح ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کرنے کی بنا پر آپ کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مکمل طور پر مثبت ذہن کے ساتھ اپنا مشن، دعوت الی اللہ کا عمل انجام دے سکیں۔ اگر آپ ڈی لنکنگ پالیسی اختیار نہ کرتے تو یہ فائدہ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کو صحابی رسول عمرو بن العاص (وفات 43ھ) کے قول سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا قول یہ ہے: لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ، وَلَكِنِ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 670) ۔ یعنی عقل مند وہ نہیں ہے، جو خیر کے مقابلے میں شر کو پہچانے۔ بلکہ عقل مند وہ ہے، جو یہ جانے کہ دو شر کے درمیان خیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ شر کے مختلف پہلوؤں کو ڈی لنک کر کے دیکھا جائے تو شر کے اندر بھی خیر کا پہلو مل جائے گا۔ آپ نے کعبہ میں بت اور بت پرستوں کے معاملے میں جو طریقہ اختیار کیا، وہ کیا تھا۔ ان بتوں کا ظاہری پہلو یہ تھا کہ وہ شر کا ذریعہ تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انہی بتوں کی وجہ سے وہاں لوگ جمع ہوتے تھے، اور اس کی وجہ سے وہاں ایک آڈینیس بنتا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ بتوں کے مشرکانہ پہلو کو الگ کر دیا، اور بتوں کی وجہ سے وہاں آنے والے لوگوں کو اپنے لیے بطور آڈینیس استعمال کیا۔ اس دنیا کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader