Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اجتماعی صبر

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتمائی صبر ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ (ابن ماجه، حدیث نمبر 4032)۔ یعنی وہ مومن جو لوگوں کے درمیان رہتا ہے، اور ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے، وہ زیادہ اجر پاتا ہے اس مومن سے جو لوگوں کے درمیان نہیں رہتا، اور لوگوں کی اذیتوں پر صبر نہیں کرتا۔ اس حدیث میں انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کے فرق کو بتایا گیا ہے۔ ایک مومن وہ ہے جو نماز و روزہ جیسے ذاتی اعمال کرتا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں جب تک وہ لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو تو اس کو ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو پیش آتے ہیں۔ مثلاً اس کی انا (ego) پر ضرب لگنا۔ اس کو کسی سے ایسی بات سننے کا تجربہ ہونا، جو اس کو افنڈ (offend) کرنے والا ہو۔ اس کو کبھی ایسا سابقہ پیش نہیں آئے گا، جب اس کو یہ محسوس ہو کہ اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس کو لوگوں کی طرف سے کسی اذیت کا تجربہ پیش نہیں آئے گا۔ وہ ایک معتدل زندگی گزارے گا۔ اس کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ مگر اس قسم کی زندگی کا درجہ اللہ کے یہاں کم ہے۔ اس کے برعکس معاملہ اس مومن کا ہے جو لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ کبھی اس کو محسوس ہوگا کہ مجھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، کبھی اس کو محسوس ہوگا کہ اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جا رہا ہے، کبھی وہ کسی کی بات پر افنڈ ہو جائے گا، کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے گا جو اس کو اپنی عزتِ نفس کے اعتبار سے بظاہر ناقابل برداشت محسوس ہوگا، کبھی اس کو کسی سے انا کا مسئلہ (ego clash) پیش آ جائے گا، وغیرہ۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page