تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
آزار یاں کی جائیں اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں ان پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہ کریں۔ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ یک طرفہ طور پر صبر و برداشت پر قائم رہتے ہوئے دعوتِ کا مثبت کام جاری رکھیں۔ دعوت کا کام اس وقت تک انجام نہیں پاسکتا، جب تک داعی کے دل میں مدعو کی خیر خواہی نہ ہو۔ یہ خیر خواہی اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ مدعو کی زیادتیوں کے باوجود اس کے حق میں داعی کے دل سے ہدایت کی دعائیں نکلتی رہیں۔ چنانچہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑایا اور آپ پر پتھر مارے، ان کے بارے میں آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا، میری قوم کو ہدایت دے، وہ نہیں جانتے: رَبِّ اھْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (فتح الباری، جلد 12، صفحہ 282)۔ خلافت کا دور خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے۔ اقتدار، عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لیے دورِ خلافت (دورِ اقتدار) میں صبر کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ 1۔ دورِ خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔ اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام برباد ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں صبر (اپنی خواہشات کو روکنا) اس بات کی ضمانت ہے کہ خلافت کے دور میں عہدوں کی طلب کی برائی نہ پیدا ہو۔ عہدے اگر اہلیت کی بنیاد پر دیے جائیں تو اس سے خلافت کا نظام طاقت ور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، عہدے اگر خواہشات کی بنیاد پر دیے جانے لگیں تو خلافت کا پورا نظام کمزور ہو کر رہ جائے گا۔ ایسی حالت میں خلافت کے نظام کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader