Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں ۔ اس دنیا میں صابرانہ عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ، اور غیر صابرانہ عمل ہمیشہ ناکام ۔ ایک خط برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمة اللہ 29 نومبر 2002 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ صبر کا مطلب آپ برداشت بتاتے ہیں، یہ غلط ہے، صبر کا مطلب حوصلہ ہے۔ صبر کا ابتدائی لغوی مفہوم برداشت (patience) یا اپنے آپ کو روکنہ ہے۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں صبر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: أَصْلُ الصَّبْرِ الْحَبْسُ الصَّبْرُ نَقِيضُ الْجَزَعِ (جلد 4، صفحہ 438) ۔ یعنی ، صبر کی حقیقت رکنا ہے... صبر کی ضد بے چینی اور جلد بازی ہے۔ جہاں تک حوصلہ (courage) کا تعلق ہے وہ بلا شبہ زندگی کی ایک اہم قدر ہے۔ زندگی میں برداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور حوصلہ کی۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کس کو کس کے تابع کیا جائے ۔ حوصلہ کو برداشت کے تابع کیا جائے یا برداشت کو حوصلہ کے تابع ۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے۔ میرے علم کے مطابق ، تاریخ کی بیشتر تباہیاں ، خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ، اس لیے ہوئی ہیں کہ لوگوں نے حوصلہ کو اوپر کر دیا اور برداشت کو نیچے ۔ اور اپنے حوصلہ مندانہ جذبات کے تحت ایک ایسا اقدام کر ڈالا جو ان کی حقیقی استطاعت (manageable limit) سے باہر تھا۔ چنانچہ ان کا نتیجہ ایسے شخص کا سا ہوا جو کسی ندی کے دہانہ کے نصف کے بقدر چھلانگ لگانے کی طاقت رکھتا ہو مگر وہ پورے دہانے کے اوپر چھلانگ لگا دے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page