تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ ٹالرنس آپ کو فرصت عمل دیتا ہے۔ وہ آپ کو عمل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور اس دنیا میں بلاشبہ سب سے بڑی چیز فرصت عمل ہے۔ فرصتِ عمل سے محرومی ہی کا نام بربادی ہے۔ اور فرصت عمل کو پاکر اس کو استعمال کرنے ہی کا نام کامیابی۔ رواداری کا اصول جنوری 1995ء کی پہلی تاریخ کو تمام اخباروں میں یہ خبر تھی کہ اقوام متحدہ نے 1995ء کے سال کو رواداری کا سال (Year of Tolerance) قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر نیو یارک سے جاری ہونے والے اعلانیہ میں کہا گیا تھا کہ اپنے عمل، اپنے عقیدہ اور اپنی رائے میں روادار ہونا وہ سب سے بڑا عامل ہے جس کے ذریعہ پر امن دنیا تعمیر کی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جگہ جگہ نسلی ٹکراؤ، اقلیتوں کے خلاف امتیاز اور پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کا اظہار ہورہا ہے۔ اس کا واحد حل رواداری ہی ہے۔ نسل پرستی اور مذہبی انتہا پسندی بہت سے ملکوں میں امتیازی سلوک تک پہنچ گئی ہے۔ ان لوگوں کو ڈرایا دھمکا یا جارہا ہے جو مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ اس طرح ان مصنفوں اور صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہورہے ہیں جو اظہار خیال کی آزادی کے حق کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی آمد کے موقع پر یہ زبردست چیلنج ہمارے سامنے ہے اور اس کا واحد حل رواداری ہے۔ نارواداری صرف مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ وہ مسائل کو ختم نہیں کرتی۔ نارواداری اگر زیادہ بڑھ جائے تو وہ عالمی امن کے لیے ایک زبردست خطرہ بن جائے گی۔ 1995 as Year of Tolerance The United Nations has proclaimed 1995 as the Year of Tolerance, saying the ability to be tolerant of the actions,

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader