Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 402

By Maulana Wahiduddin Khan

مثبت سوچ ایک ہندوستانی کو پہلی بار جاپان جانے کا موقع ملا۔ ایک روز انھوں نے اپنے جاپانی میزبان سے ازراہ ہمدردی کہا: ”آپ لوگوں کے ساتھ امریکا نے بڑا ظلم کیا۔ اس نے تاریخ کے پہلے ایٹم بم آپ کے ملک پر گرائے اور آپ کے دو شہروں کو کھنڈر بنا دیا۔“ ”نہیں کوئی ظلم نہیں،“ جاپانی نے کہا۔ ”یہ بم تو ہمارے لیے رحمت ثابت ہوئے۔ ہمارے یہ شہر قدیم طرز پر آباد تھے۔ تنگ اور خم دار سڑکیں، فرسودہ مکانات، گندے محلے، ان کا نام تھا ہیروشیما اور ناگاساکی۔ معمولی حالات میں ہم نئے طرز پر ان کی تعمیر نہیں کر سکتے تھے۔ مگر جب جنگ نے اچانک ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تو ہم کو موقع مل گیا اور ہم نے قدیم ملبہ پر انتہائی جدید قسم کے منصوبہ بند شہر آباد کر دیے“۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے ۔ وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے۔ وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔ مثبت سوچ کی ضرورت مثبت سوچ (positive thinking) کا مطلب کیا ہے۔ اس سے مراد وہ سوچ ہے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو۔ جس میں شکایت اور احتجاج کے بجائے، مکمل طور پر حقیقتِ واقعہ کی بنا پر رائے قائم کی جائے۔ مثبت سوچ وہ ہے جو ہر قسم کے فخر اور تعصب سے خالی ہو۔ مثبت سوچ دوسرے الفاظ میں مبنی بر حقیقت سوچ کا نام ہے۔ مثبت سوچ کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ منفی سوچ سے منفی شخصیت بنتی ہے، اور مثبت سوچ سے مثبت شخصیت۔ مثبت سوچ فطرت کی آواز ہوتی ہے، اور منفی سوچ ابلیس کی آواز۔ مثبت سوچ انسان کو پاکیزہ شخصیت بناتی ہے، اور منفی سوچ اس کی شخصیت کو آلودہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page