Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 404

By Maulana Wahiduddin Khan

منفی سوچ والے آدمی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی خول میں جیتا ہے۔ اُس کے ذہن کے اندر جو خیال آجائے اُسی کو وہ اصل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہوتا کہ اُس کے ذہن کے باہر جو حقیقتیں ہیں اُن کو جانے اور ان کی روشنی میں زیادہ درست رائے قائم کرے۔ منفی سوچ دراصل بند سوچ کا دوسرا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں مثبت سوچ وہ ہے جو کھلی سوچ ہو۔ مثبت سوچ والا آدمی تعصبات سے آزاد ہو کر سوچتا ہے۔ وہ معاملات میں بے لاگ رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی رائے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ وہی سوچتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو سوچنا چاہیے اور وہی بولتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو بولنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت سوچ والے آدمی کی راہیں کبھی بند نہیں ہوتیں، جب کہ منفی سوچ والے آدمی کو ہر طرف اپنی راہیں بند دکھائی دیتی ہیں۔ منفی سوچ مایوسی کی سوچ ہے اور مثبت سوچ امید کی سوچ۔ منفی سوچ راستہ کو بند حالت میں دیکھتی ہے، جب کہ مثبت سوچ والے آدمی کو ہر طرف راستے کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مثبت سوچ بصیرت ہے اور منفی سوچ بے بصیرتی۔ مثبت سوچ، منفی سوچ قرآن کی سورہ الاحزاب میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے، جو سارے زمین و آسمان کو نہیں دی گئی، اور وہ امانت ہے، یہی امانت وہ چیز ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے۔ امانت سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو فری تھنکنگ (free-thinking) کہا جاتا ہے، یعنی آزادانہ طور پر سوچنا اور آزادانہ طور پر اپنے عمل کی پلاننگ کرنا۔ اس امانت کی صحیح ادائیگی انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے، اور اس امانت کی ادائیگی میں ناکام ہونا انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے (72-33:73)۔ اس موقع پر قرآن میں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ظلوم اور جہول، یعنی غیر عادل اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page