Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صحیح طرز فکر

Urdu book, p. 411

By Maulana Wahiduddin Khan

مثبت روش کا نتیجہ اسلام کی ایک تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَا تَسۡتَوِي الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهُ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهُوَّلِيٌّ حَمِيۡمٌ (41:34)۔ یعنی، اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ قرآن کی اس آیت میں عام اجتماعی زندگی میں حسن اخلاق (good behaviour) کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ حسن اخلاق بلاشبہ ایک اہم اسلامی قدر (Islamic value) ہے۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عداوت کی نسبت سے ہے، نہ کہ نارمل تعلقات کی نسبت سے۔ اسلام ایک مشن ہے، پر امن دعوتی مشن۔ باعتبار حقیقت یہ مشن پوری طرح پر امن اور غیر سیاسی مشن ہے۔ لیکن کسی ماحول میں جب اس مشن کے لیے کام کیا جائے تو کچھ لوگ نظریاتی بنیاد پر اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان عملاً نزاع (controversy) کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر مدعو کی طرف سے داعی کی مخالفت شروع ہوجاتی ہے۔ مذکورہ قرآنی تعلیم اسی طرح کی نزاعی صورت حال کے بارے میں ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں داعی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز اپنے کلام میں منفی ردِّ عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ بلکہ وہ یک طرفہ طور پر مثبت ریسپانس (positive response) کی روش پر قائم رہیں۔ داعی اگر اپنے آپ کو منفی ردِّ عمل سے بچائے، مکمل طور پر دونوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم رہے، تو فطرت اپنا کام کرے گی۔ فطری پر اس کے تحت مدعو کی نفسیات بدلنا شروع ہوجائے گی، یہاں تک کہ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ جو شخص بظاہر مخالف نظر آرہا تھا، وہ داعی کا حامی اور موافق بن جائے۔ منفی ردِّ عمل مدعو کی ایگو (ego) کو بھڑکاتا ہے، مثبت ریسپانس اس کو معتدل بنا دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page