مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ
Urdu book, p. 445
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ تاتاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن اسلام کے خادم بن گئے۔ اس تاریخی واقعہ پر پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1930-1864ء) نے ریسرچ کی ہے ۔ ان کی کتاب دی پر یچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) کے باب Spread of Islam among the Mongols کے تحت اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اس زمانے میں تاتاری لوگ مسلمانوں کو سخت حقیر سمجھنے لگے تھے۔ اس دور کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک دن تاتاری شہزادہ تغلق تیمور خاں نے ایک ایرانی مسلمان شیخ جمال الدین کو دیکھا۔ اس نے نفرت کے ساتھ کہا کہ تم اچھے یا میرا کتا اچھا۔ شیخ جمال الدین نے اس کو سن کر معتدل انداز میں جواب دیا: اگر ہمارے پاس سچائی (true faith) نہ ہوتی تو ہم کتے سے بھی بدتر ہوتے ۔ یہ جواب سن کر شہزادہ کا غصہ ختم ہو گیا۔ اس نے شیخ کو الگ سے بلا کر بات کی کہ مجھے بتاؤ یہ ایمان کیا چیز ہے۔ اس طرح شیخ کو موقع مل گیا کہ وہ شہزادے سے اسلام کے بارے میں تفصیل سے بات کر سکیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے اس واقعہ کو اپنی کتاب میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے : Tūqluq Timūr Khān (1347-1363), is said to have owed his conversion to a holy man from Bukhārā, by the name Shaykh Jamal al-Din. This Shaykh, in company with a number of travellers, had unwittingly trespassed on the game-preserves of the prince, who ordered them to be bound hand and foot and brought before him. In reply to his angry question, how they had dared interfere with his hunting, the Shaykh pleaded that they were strangers and were quite unaware that they were trespassing on

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader