Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر اور سنجیدگی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ نعمت کو دیکھ کر سراپا شکر بن جاتا ہے۔ جو کچھ بظاہر اس کو ذاتی محنت سے حاصل ہوتا ہے اس کو بھی وہ پورے طور پر خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہی ہر سنجیدہ انسان کا طریقہ ہونا چاہیے۔ اسی اعتراف کا شرعی نام شکر ہے۔ یعنی کسی نعمت کے حصول پر منعم کے لیے دل کی گہرائی سے قدردانی کا اظہار کرنا: deep appreciation for kindness received جہاں شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں دین بھی نہ ہوگا۔ اس دنیا کے اندر شکر کے آئٹم اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو گنا نہیں جاسکتا (النحل، 16:18)۔ اگر انسان سنجیدہ (sincere) ہو تو نعمت کا احساس انسان کے اندر شکر وحمد کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔ یہی اللہ سے تعلق کا خلاصہ ہے۔ انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ اس کی نفسیات میں کسی کیفیت کا تسلسل باقی نہیں رہتا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ شکرِ خداوندی کی کیفیات میں زندگی گزارے۔ اس لیے انسان پر مختلف قسم کے ناخوشگوار حالات لائے جاتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے سے انسان کے اندر نعمت اور منعم کی اہمیت کا احساس ابھرے۔ تاکہ آدمی کبھی شکر کی کیفیت سے خالی نہ ہونے پائے، وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ہر تجربے کے بعد شکر کا رسپانس (response) دیتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل و جان کے ساتھ ان انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page