Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (2:25)۔ یعنی، جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی زندگی مادی معنوں میں اسفل نہیں ہے۔ بلکہ وہ نفسیاتی معنی میں احساسِ محرومی کی زندگی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا ہے کہ موجودہ دنیا کی مادی نعمتیں انسان کو فل فلمنٹ (fulfillment) کے درجہ میں تسکین نہیں دیتیں۔ خواہ انسان کو دنیوی نعمتیں کتنی ہی زیادہ حاصل ہوجائیں۔ مثلاً امریکا کے بل گیٹس (Bill Gates, b. 1955) کے لیے اس کی دولت تسکین کا ذریعہ نہیں بنی۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump, b. 1946) کو وائٹ ہاؤس میں پہنچ کر سکون نہیں ملا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے پہلے دور صدارت (2021-2017) میں وائٹ ہاؤس کو ”کو کون“ (cocoon)، یعنی ریشم کے کیڑے کا خول، بتایا تھا۔ اس معاملہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو جنت کے مشابہ دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ اس کو چاہیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو جنت دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ تاکہ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو، اور لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (14:7)۔ یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا— کے مطابق وہ جنتِ آخرت کا مستحق بنے۔ نہ ملے پر شکایت، ملے پر بے اعترافی انسان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ شیطان کا پیرو بن جائے۔ شیطان کی پیروی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page