انتہائی فیصلہ
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
فیصلہ لینے لگے۔ اسی نوعیت کا ایک مشہور واقعہ ہے جو سنڈے ٹائمز، لندن کے حوالے سے نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (17 اگست 2009ء) میں شائع ہوا ہے۔ لیبیا کے حکمراں معمر القذافی کے 33 سالہ بیٹے ہنی بال (Hannibal) جنیوا (سوئزرلینڈ) گئے۔ وہاں وہ ایک ہوٹل میں ٹھہرے ۔ اُن کے ساتھ ان کی بیوی العین (Alaine) بھی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ہوٹل کی ایک تونیسی ملازمہ مونا (Mona) کی کسی بات پر العین کو غصہ آ گیا۔ العین نے اُس کو مارا اور دھمکی دی کہ میں تم کو ہوٹل کی کھڑکی سے باہر پھینک دوں گی۔ اس واقعے کی خبر مقامی پولیس کو ہوئی۔ پولیس نے ہنی بال اور العین کو گرفتار کر لیا۔ اگر چہ جلد ہی ان کو رہا کر دیا گیا، لیکن اس واقعے کی خبر جب ہنی بال کے والد معمر القذافی کو پہنچی تو اس کو انھوں نے اپنی بے عزتی (humiliation) سمجھا، وہ سخت غضب ناک ہو گئے ۔ انھوں نے سوئزرلینڈ کے خلاف کئی سخت اقدامات کیے ۔ سوئزرلینڈ سے ہوائی سروس منقطع کرنا، سوئزرلینڈ کی کئی کمپنیوں کے لیبیا میں موجود دفتروں کو بند کر دینا، وغیرہ۔ حتی کہ انھوں نے کہا: "If I had an atomic bomb, I would wipe Switzerland off the map!" یہ واقعہ چھوٹی شکایت پر انتہائی اقدام کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کا اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ خواہ کوئی معمولی آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی، کوئی بھی اس قسم کے انتہائی اقدام کے منفی نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے، لیکن بعد کو اُس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی ۔ طلاق کے واقعے سے لے کر قومی جنگ تک، ہر معاملے میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader