تعلیم و تربیت
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم و تربیت اگست 1945ء میں جاپان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس نے سیاسی آزادی بھی کھودی اور معاشی استقلال بھی۔ اس کے بعد جاپان نے یہ کیا کہ سیاسی آزادی کے مسئلہ کو چھیڑے بغیر معاشی استقلال کے لیے جدوجہد شروع کردی، اس طریقہ کار کے ذریعہ جاپان نے اتنی کامیابی حاصل کی کہ آج وہ سپر اقتصادی طاقت شمار کیا جاتا ہے۔ 1990ء تک جاپان دنیا کو 5 کھرب ڈالر قرض کے طور پر دے چکا تھا۔ اندازہ ہے کہ 1995ء تک جاپان کے عالمی قرضہ کی مقدار 10 کھرب ڈالر ہوچکی ہوگی۔ جاپان 1945ء میں امریکا کا سیاسی محکوم تھا، آج جاپان نے خود امریکا کو اپنا اقتصادی مقروض بنا لیا ہے۔ پاکستان کے ایک کالم نویس مسٹر ابو ذر غفاری مئی 1992ء میں کابل گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک جاپانی صحافی سے ہوئی، انھوں نے جاپانی صحافی سے پوچھا کہ جاپان کی اس حیران کن ترقی کا راز کیا ہے۔ کس طرح ایسا ہوا کہ جاپان نے ایک ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ جاپانی صحافی نے جواب دیا کہ جاپان کی اعلیٰ ترقی کا راز جاپانی قوم کے اعلیٰ کردار میں چھپا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ ہمارے پاس قدرتی وسائل نہیں ۔ اس لیے ہم اپنے بچوں ہی کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے ہیں۔ جاپان کا ایک ایک گھر گویا جاپانی بچہ کی تربیت گاہ ہے۔ جاپان کے لوگ اپنے بہترین وسائل اپنے بچہ کی تعلیم پر صرف کرتے ہیں۔ چنانچہ جاپانی قوم اس وقت مکمل طور پر ایک تعلیم یافتہ قوم ہے۔ ہمارے یہاں جہالت کا کوئی وجود نہیں۔ جاپان میں اتنے زیادہ سائنسی تعلیم یافتہ لوگ ہیں کہ آپ جاپان کو ایک سائنسی قوم کہہ سکتے ہیں۔ اس تعلیم و تربیت نے جاپان کے لوگوں میں اعلیٰ ترین قومی کیرکٹر پیدا کر دیا ہے، مثلاً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader