تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
معلم نے مجھ کو مارا ہے: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَاءُهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ - قَالَ : فَجَاءَ غُلَامٌ يَوْمًا يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ : ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي (مسند احمد، حدیث نمبر (2216) - یہ قیدی سب کے سب اسلام کے دشمن تھے۔ ان کو چھوڑنے میں یہ اندیشہ تھا کہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف مسئلہ بنیں گے۔ اس کے باوجود انھیں تعلیم کی قیمت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ہر اندیشے کو نظر انداز کر کے اسے حاصل کرنا چاہیے۔ اس کو اسکول سے خارج کر دیا گیا تھا پروفیسر البرٹ آئن سٹائن (1955-1879) نے 20 ویں صدی کی سائنس میں عظیم انقلاب برپا کیا۔ مگر اس کی زندگی کا آغاز نہایت معمولی تھا۔ تین سال کی عمر تک وہ بولنا شروع نہ کر سکا۔ بظاہر وہ ایک معمولی باپ کا معمولی بچہ تھا۔ نو سال کی عمر تک وہ بالکل عام بچہ دکھائی دیتا تھا۔ اسکول کی تعلیم کے زمانہ میں ایک بار وہ اسکول سے خارج کر دیا گیا۔ کیوں کہ اس کے استادوں کا خیال تھا کہ اپنی تعلیمی نااہلی کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں پر برا اثر ڈالتا ہے۔ زیورک کے پالی ٹکنیک میں اس کو پہلی بار داخلہ نہ مل سکا کیوں کہ آزمائشی امتحان میں اس کے نمبر بہت کم تھے ۔ چنانچہ اس نے مزید تیاری کر کے اگلے سال داخلہ لیا۔ اس کے ایک استاد نے اس کے بارے میں کہا: "Al-bert was a lazy dog." البرٹ ایک سست کتا تھا۔ 20 سال کی عمر تک البرٹ آئن سٹائن میں کوئی غیر معمولی آثار نظر نہ آتے تھے۔ مگر اس کے بعد اس نے محنت شروع کی تو وہ اس بلندی تک پہنچا جو موجودہ زمانہ میں بمشکل کسی دوسرے سائنس داں کو حاصل ہوئی ۔ اسی بنا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader