آہ! یہ مسلمان
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
آہِ مسلمان ہندوستان ۱۹۴۷ میں آزاد ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے۔ جن کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اندازہ ہے کہ پچھلے ۷۰ سال میں یہاں تقریباً دس ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ ہندوستان کا تقریباً ہر فرقہ وارانہ فساد مسلمانوں کی بے صبری سے شروع ہوتا ہے۔ مسلمان اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر چھوٹی سی خلاف مزاج بات پر اشتعال ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد معلوم اسباب کے تحت وہ دو قوموں کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جس میں نقصان ہمیشہ مسلمانوں کے حصہ میں آتا ہے ۔ ان فسادات کو ابھارنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری مسلم قائدین پر ہے۔ مسلمانوں میں جتنے بھی لکھنے اور بولنے والے ہیں حسبِ متفقہ طور پر جہاد کی باتیں کرتے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کے اندر برابر لڑنے کا مزاج بناتے رہتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ قرآن میں صبر کی بھی آیتیں بھی ہیں۔ تاہم دوسروں کو اپنی زبان و قلم سے جہاد پر ابھارنے والے یہ لوگ خود ہمیشہ جہاد کے میدان سے دور رہتے ہیں۔ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک بے شمار مسلمان مارے جاچکے ہیں مگر ان میں سے کسی فساد میں کوئی مسلمان قائد اب تک مارا نہیں گیا نہ کوئی چھوٹا قائد اور نہ کوئی بڑا قائد ۔ مسلم قائدین صرف دوسروں کو للکارنے کے لیے بہادر ہیں ، وہ خود لڑنے اور مرنے کے لیے بہادر نہیں۔ دوسری طرف مسلم عوام کا حال یہ ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر مخالف فرقہ کے ساتھ ہنگامہ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔ ان سے صبر اور اعراض کی بات کیجیے تو وہ فوراً جواب دیں گے کہ اگر ہم نے صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا تو مخالف طاقتیں دلیر ہو جائیں گی ۔ مگر عملاً کیا ہوتا ہے ۔ عملاً صرف یہ ہوتا ہے کہ مسلمان ابتدائی مرحلہ میں بے صبر ہو کر لڑ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ جلائے پھونکے جاتے ہیں اور پولیس آکر وحشیانہ طور پر انھیں کچلنے لگتی ہے تو وہی مسلمان بالکل دوسرے مسلمان بن جاتے ہیں۔ فساد کے آغاز میں مسلمان چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے مگر فساد کے خاتمہ پر ہر مسلمان نہایت بزدلانہ طور پر عین اسی مقام پر خاموش ہو جاتا ہے جہاں اس سے پہلے وہ کاغذ اور مانک کا شیر بنا ہوا تھا ـــــ کاش مسلمان جانتے کہ بزدلی دکھا کر چپ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی بزدلی دکھائے بغیر چپ ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader