یہ لیڈر
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
اُس اسلام سے کوئی دل چسپی نہیں جس سے خدا خوش ہوتا ہو۔ جس سے آخرت کا انعام ملنے والا ہو۔ ایسے لوگوں کی ظاہری کامیابیان اکثر انھیں دھوکے میں ڈال دیتی ہیں۔ مگر انھیں اس حدیث رسول کو نہ بھولنا چاہیے، جس کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ کے صحابی بے ہوش ہو گئے تھے : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول: ان اول الناس يقضى يوم القيامة عليه رجل استشهد فأتى به فعرفه نعمته فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت، قال: كذبت و لكنك قاتلت لأن يققال جُری فكد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى القى في النار، ورجل تعلم العلم وعلمهُ وقرأ القرآن، فأتي به فعرفه نعمته فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته، وقرأت فيك القرآن، قال: كذبت و لكنك تعلمت ليقال عالم، وقرأت القرآن ليقال قارئ فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى القى في النار، ورجل وسع الله عليه وأعطاه من اصناف المال فأتي به فعرفه نعمته فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تححب ان ينفق فيها الا أنفقت فيها لك، قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال هو جواد فكد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه ثم القى في النار“ (رواہ مسلم) حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ شخص ہے جو شہید ہوا۔ اس کو لایا جائے گا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا۔ وہ ان کا اققرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے تیری راہ میں جنگ کی یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لئے جنگ کی تاکہ کہا جائے کہ تو بہادر ہے۔ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے علم دین سیکھا اور اس کی تعلیم دی اور قرآن کو پڑھا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور تیری راہ میں قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلا تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تو عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تا کہ تجھ کو قرآن پڑھنے والا کہا جائے‘ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہو گا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کو بلایا جائے گا جس کو اللہ نے وسعت دی تھی اور مال عطا کیا تھا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے ان کو تیرے پسندیدہ راستوں میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لئے خرچ کیا کہ تجھ کو سخی کہا جائے۔ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہو گا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جنھوں نے دین کے نام پر جان دی، دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں لگائیں۔ دین کے نام پر اپنے مال کو خرچ کیا۔ مگر یہ سب کچھ انھوں نے نمائش کے جذبہ کے تحت کیا۔ اس لئے وہ خدا کے یہاں غیر مقبول ٹھہرے اور جنھوں میں ذلیل کر دیئے گئے۔ پھر ان لوگوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا جنھوں نے دین کو تجارت بنایا جنھوں نے دین کے نام پر دنیا کمائی۔ جو دین کو دینے کے بجائے صرف دین سے لیتے رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader