اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
قیادت کا المیہ دہلی میں قانون کے ایک طالب علم سے پوچھا گیا کہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تم کیا کرو گے۔ اس نے جواب دیا۔ ’’چل گئی تو موتی لال، نہیں چلی تو جواہر لال،، ہندوستان کی سیاست میں جو لوگ ’’جواہر لال،، بنے وہ وہی تھے جن کی ’’نہیں چلی تھی، پریکٹس یا کاروبار میں ناکام ہونے والے لوگ سیاست کے میدان میں داخل ہوگئے۔ یہاں عمل کی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ تقریریں اور بیانات کافی تھے۔ چنانچہ بہت جلد وہ کامیاب لیڈر بن گئے۔ یہ بات مسلم قیادت کے لئے اور بھی زیادہ صحیح ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قیادت سب سے زیادہ ناکام قیادت ثابت ہوئی ہے۔ اس کی غالباً سب سے بڑی وجہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ حقیقی زندگی میں ناکام رہنے والے لوگ قیادت کے میدان میں داخل ہوگئے۔ حقیقی زندگی میں حقیقی لیاقت درکار تھی مگر قیادت کے میدان میں صرف تقریریں اور تحریریں کافی تھیں۔ اور یہ دوسرا سرمایہ ان لوگوں کے پاس کافی مقدار میں موجود تھا۔ عمل کے میدان میں ناکام رہنے والے لوگ الفاظ کے میدان میں آفتاب اور ماہتاب بن کر چمک اٹھے۔ ان لوگوں کے پاس ملت کو دینے کے لئے کوئی حقیقی عمل نہ تھا۔ ان کے پاس صرف الفاظ تھے جن کے سہارے وہ اپنا مقام پیدا کر سکیں، چنانچہ انھوں نے یہی کیا۔ انھوں نے رومانی شاعری، جذباتی تحریریں مبالغہ آمیز بیانات اور وقتی نعروں اور ہنگاموں پر اپنی قیادت کی عمارت کھڑی کی۔ اس طرح انھیں ذاتی عظمت تو حاصل ہوگئی مگر ملت کو عظمت کی منزل تک پہنچانے میں وہ سراسر ناکام رہے۔ ایک مثال لیجئے۔ ہندوستان کی مسلم قیادت کا ایک اہم اشوانگریزی اخبار ہے ’’ہندوستان کے انگریزی اخبارات مسلم خبروں کی صحیح رپورٹنگ نہیں کرتے،، یہ بات تقریباً ہمارے ہر لیڈر کی زبان پر ہے۔ اس عنوان پر ہمارے لیڈروں نے مسلمانوں کے جذبات اس قدر زیادہ بھڑ کا ئیں ہے کہ حال میں ایک صاحب نے ماہنامہ الرسالہ کے بارے میں کہا کہ الرسالہ میں ٹائمز آف انڈیا کے اقتباسات ہوتے ہیں، جب کہ ٹائمز آف انڈیا مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک ہے۔ ان کے نزدیک چوں کہ الرسالہ میں دشمن اخبار کے اقتباسات چھپتے ہیں اس لئے الرسالہ مسلمانوں کو پڑھنا نہیں چاہئے۔ اس قسم کی لایعنی باتوں کی ذمہ داری تمام تر ہماری مسلم قیادت پر ہے۔ وہ ہندوستان کے موجودہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader