Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کو اقلیتی کردار دینے کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ یہ لڑائی حکومت اور حکمراں پارٹی سے تھی۔ بالآخر 1982 میں ان کو نئے ایکٹ کے تحت اقلیتی کردار دے دیا گیا۔ مگر مسلمانوں کی لڑائی بدستور جاری ہے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اس لڑائی کا نشانہ نئی دہلی تھا، اب اس لڑائی کا نشانہ خود ان کا مسلمان وائس چانسلر ہے اس سے پہلے ہندوستان کے بیشتر مسلمانوں نے تقسیم ملک کی مانگ کی۔ اس مانگ کے لئے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ مشترک ہندوستان میں ملک کا اکثریت فرقہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس مطالبہ کے مطابق ان کو پاکستان دے دیا گیا۔ مگر ان کے شکایتی ذہن نے اپنی شکایت کے لئے نیا نشانہ تلاش کر لیا۔ اب مشرقی پاکستان کو یہ شکایت ہو گی کہ مغربی پاکستان اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ دوبارہ خود اپنے درمیان ایک بھیانک لڑائی ہوئی جو اس پر ختم ہوئی کہ مشرقی پاکستان نے مغربی پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ تاہم 1983 کے واقعات بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ اب سندھ کے مسلمانوں کو پنجاب کے مسلمانوں سے شکایت ہے کہ وہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ یہ لڑائی جاری ہے اور کچھ نہیں معلوم کہ وہ کہاں جا کر ختم ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہر بات میں ان کا بے برداشت ہو جانا ہے۔ جب تک وہ اپنے اس مزاج کو ختم نہ کریں، ان کے لئے زمین تنگ رہے گی، خواہ وہ ایک ملک کا معاملہ ہو یا دوسرے ملک کا۔ دوسرے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مسلمان اپنے تقرر کے اعتبار سے بلاشبہ خیرامت ہیں اور اس حیثیت سے ان کے ساتھ خدا کا ایک امتیازی معاملہ ہے۔ خدا نے مسلمانوں کے لئے اپنی ایک خصوصی مدد مقدر کی ہے جو اس نے دوسروں کے لئے مقدر نہیں کی۔ مگر اس خصوصی مدد کا استحقاق خیرامت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری انجام دینے پر ہے نہ کہ صرف کسی مسلم نسل سے تعلق ہونے کی بنا پر۔ یہ ذمہ داری دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہے۔ دعوت و تبلیغ سے مراد مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام نہیں ہے۔ بلکہ غیر مسلموں تک خدا کا سچا دین پہنچانا ہے۔ مسلمانوں کی اصلاح بھی ایک کرنے کا کام ہے اور اس کو ضرور کیا جانا چاہئے۔ مگر غیر مسلموں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کبھی بھی مسلمانوں کے درمیان اصلاحی کام کرنے سے پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ وعدہ صرف اس وقت پورا ہوگا جب کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیتے ہوئے اتمام حجت کی حد تک پہنچایا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page