Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

توہینِ رسولؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ ٦ھ میں مدینے سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر عمرہ کریں۔ آپ کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ بھی تھے۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ مکہ کے لوگ، جو اس وقت مشرک تھے، انھوں نے طے کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں۔ آپ حدیبیہ میں ٹھہر گئے ۔ اس کے بعد اہل مکہ سے بات چیت شروع ہوئی۔ اس دوران اہل مکہ طرح طرح کی اشتعال انگیزی کرتے رہے۔ مگر آپ قطعا اس سے مشتعل نہیں ہوئے اور صبر و برداشت کے ساتھ ان سے بات چیت جاری رکھی۔ آخر کار دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ یہ معاہدہ بھی تقریباً ایک طرفہ تھا۔ اس میں بظاہر وہ تمام باتیں مان لی گئی تھیں جن کا مطالبہ اس وقت اہل مکہ کر رہے تھے۔ اس معاہدہ کے تحت آپ کو پابند کیا گیا تھا کہ : آپ مکہ میں داخل نہ ہوں اور اس سال عمرہ کیے بغیر واپس چلے جائیں۔ مکہ کا کوئی آدمی مسلمان ہو کر مدینہ جائے تو اس کو دوبارہ مکہ واپس کر دیں معاہدہ میں ” محمد رسول اللہ “ کا لفظ مٹائیں اور اس کے بجائے محمد بن عبداللہ کا لفظ لکھیں وغیرہ۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوچتے کہ اہل مکہ کی ان باتوں کو ہرگز نہیں ماننا ہے۔ کیوں کہ اس وقت اگر ان کی بات مان لی گئی تو آئندہ وہ اور زیادہ جری ہو جائیں گے ۔ آج عمرہ کے لیے روک رہے ہیں، کل حج کے لیے روکیں گے ۔ آج مکہ میں داخل ہونے پر پابندی لگارہے ہیں، کل مدینہ میں داخلہ پر پابندی لگائیں گے۔ آج نئے مسلمانوں کو واپس کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، کل پرانے مسلمانوں کو واپس کرنے کے لیے کہیں گے۔ آج رسول اللہ کا لفظ مٹانے کے لیے کہہ رہے ہیں، کل خدا کا لفظ مٹانے کا مطالبہ شروع کر دیں گے ۔ وغیرہ، وغیرہ۔ مگر اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نہیں سوچا۔ آپ نے اس قسم کے تمام اندیشوں کو شیطانی وسوسہ قرار دیتے ہوئے انھیں بالکل نظر انداز کر دیا۔ اور اہل مکہ کی تمام شرطوں کو مان کر مدینہ واپس چلے آئے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ کی یہ ” واپسی “ عظیم اقدام” کے ہم معنی بن گئی۔ اس کے بعد اللہ کی مدد آئی اور صرف ۲ سال کے اندر مکہ بھی آپ کے قبضہ میں آگیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page