اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
عبرت ناک ہندوستان کی آزادی کے ذیل میں ہندوستانی علماء کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو اس میں ہمیشہ علماء کی زبردست قربانیوں کا تذکرہ ہوگا۔ اور پر جوش طور پر یہ کہا جائے گا کہ ہندوستان کو آزادی ہم نے دلائی۔ علماء اور مسلم عوام لاکھوں کی تعداد میں قربان نہ ہو گئے ہوتے تو انگریز ہندوستان کے مطالبہ آزادی کو تسلیم نہیں کر سکتا تھا۔ یہ بات اگرچہ کلی طور پر نہیں تاہم جزئی طور پر یقیناً صحیح ہے۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ علماء کے دعوئوں کے باہر اس کا اعتراف کہیں موجود نہیں۔ ہندوستان میں قومی سطح پر آزادی کی جو تاریخیں لکھی گئی ہیں ان میں علماء ہند کا یہ " شاندار باب " بالکل حذف ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان سے باہر عالمی سطح پر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے ۔ اس میں بھی اس کا تذکرہ موجود نہیں ۔ اس کی ایک مثال انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۳) کا وہ مضمون ہے جو سبھاش چندر بوس (1975-1897) کے عنوان کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جب جاپانیوں نے سنگاپور پر قبضہ کر لیا تو سبھاش چندر بوس جاپان پہنچے۔ وہاں انھوں نے اکتوبر ۱۹۴۳ میں " آزاد ہند حکومت " کی بنیاد ڈالی۔ اور اس کے تحت ایک آزاد ہند فوج (Indian National Army) بنائی ۔ اس فوج کے افراد زیادہ تر وہ ہندوستانی فوجی تھے جو انگریزی فوج میں شامل تھے اور جنھوں نے جاپان کی فتح کے بعد ہتھیار ڈال دیئے تھے ۔ سبھاش چندر بوس اس فوج کو لے کر رنگون پہونچنے تاکہ وہاں سے ہندوستان کی طرف مارچ کر سکیں۔ یہاں ان کا مقابلہ انگریزی فوج سے ہوا جس میں انھیں شکست ہوئی۔ اس کے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا۔ ایک حادثہ کا شکار ہو کر وہ کچھ دن جاپان کے اسپتال میں رہے اور وہیں ۱۹ اگست ۱۹۴۵ کو انتقال کر گئے۔ سبھاش چندر بوس کے تذکرے کے تحت انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا میں لکھا گیا ہے کہ سبھاش چندر بوس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ برطانی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں میں بھی حب وطن کا جوش پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اپنے اس عمل سے انھوں نے وہ اثرات ڈالے جو بالآخر ہندوستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader