اسراف کا نتیجہ
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو حاصل کرے ۔ میں نے اپنے کلکتہ کے ایک رفیق جناب قاری محمد اسماعیل ظفر ایم اسے کو خط لکھا کہ وہ عدالت سے اس کی مکمل نقل حاصل کرکے روانہ کریں۔ انھوں نے فوراً اس کی کوشش شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے فیصلے کی مکمل نقل حاصل کرکے مجھے روانہ کی جو ۴؍ اگست ۱۹۸۵ کو مجھے دہلی میں مل گئی ۔ جسٹس بمل چندر باسک (کلکتہ ہائی کورٹ) نے اپنا یہ فیصلہ ۷؍ مئی ۱۹۸۵ کو دیا ہے اور وہ ۱۸ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس فیصلے کے ۴۱ پیرا گراف ہیں۔ جسٹس باسک تفصیلی جائزہ کے بعد اپنے فیصلے کے پیرا گراف نمبر ۳۹ میں کہتے ہیں کہ مذکورہ اسباب کے تحت یہ بات واضح ہے کہ اس عدالت کے حدود اختیار سے باہر ہے کہ وہ قرآن پر پابندی لگانے کا حکم جاری کرے جس کی کہ درخواست میں اپیل کی گئی ہے ۔ اس کے بعد پیرا گراف نمبر ۴۱ میں واضح طور پر یہ الفاظ ہیں کہ مذکورہ اسباب کی بنا پر یہ درخواست ڈسمس کی جاتی ہے : For the aforesaid reasons this application stands dismissed. کیسی عجیب بات ہے کہ ایک مقدمہ جس کو ہندوستان کی عدالت نے خارج کر دیا ، اس کی بابت بالکل غلط طور پر یہ الفاظ لکھے گئے ہیں کہ عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیے بغیر اس کو گول مول حالت میں چھوڑ دیا اور اس طرح شرارت کا دروازہ کھلا رکھا ۔ نیز اس سلسلہ میں بنگلہ دیش میں ہونے والے جھوٹے مظاہرہ کا حوالہ اس طرح دیا گیا ہے گویا کہ وہ کوئی قابل فخر اسلامی کارنامہ ہو۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اس قسم کے واقعات کی رپورٹنگ غیر مسلم پریس میں اس سے زیادہ صحیح ہوتی ہے جو نام نہاد مسلم پریس میں نظر آتی ہے ۔ مسلم پریس کی تقریباً تمام رپورٹیں اسی طرح بے اصل ہوتی ہیں جس کا ایک نمونہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے ۔ یعنی واقعات کی صحیح تصویر دیے بغیر یک طرفہ طور پر فریق ثانی کو بُرا بتانا ۔ اس قسم کا جھوٹا احتجاج نہ خدا کے نزدیک کوئی قیمت رکھتا ہے اور نہ خلق کے نزدیک ۔ مسلمان اگر ایک ہزار سال تک اس قسم کا احتجاج کرتے رہیں تب بھی اس کا کوئی فائدہ انھیں ملنے والا نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader