Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

لیا جا سکتا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ میرے بھائی، یہ صحیح ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ مگر کوئی بھی نظام پورا کا پورا ایک وقت قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کام آغاز سے چل کر اختتام تک پہنچتا ہے۔ اسی کا نام تدرّج ہے۔ اسلام کا کام بھی تدرّجی انداز سے ہوگا۔ ہمیں یہ کرنا ہے کہ آج کے حالات میں جو کچھ ممکن ہے وہاں سے اپنے عمل کا آغاز کریں۔ اس طرح ہمارا اسلامی سفر شروع ہو جائے گا۔ وہ منزل بہ منزل جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ انشاء اللہ ہم آخری مرحلہ تک پہنچ جائیں گے۔ اب آپ کا مخاطب اور زیادہ پر جوش ہو جائے گا۔ وہ کہے گا کہ آپ تو مسلمانوں کو بزدل بنا دینا چاہتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے مجاہدانہ عزم الم کو ختم کر دیں اور نظام باطل کی دی ہوئی رعایتوں کے تحت کمتر زندگی پر راضی ہو جائیں۔ اسی طرح وہ آدمی آپ کی ہر دلیل کو پر جوش طور پر رد کرتا رہے گا۔ آپ خواہ کتنی ہی مدلل بات کہیں وہ آپ کی ہر بات کے جواب میں کچھ نہ کچھ الفاظ بول دے گا۔ اس طرح گفت گو کبھی ختم نہ ہوگی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا خاص سبب نکتہ بحث کو بدلنا ہے۔ آپ جب ایک دلیل پیش کرتے ہیں تو اس کا تعلق کسی خاص نکتہ بحث سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کا مخاطب نکتہ بحث کو بدل دے تو آپ کی دلیل، نئے نکتہ بحث کے اعتبار سے بے وزن معلوم ہونے لگے گی۔ قرآن میں حضرت ابراہیم نے شاہ نمرود کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پھر تو میں بھی رب ہوں، کیوں کہ مجھے بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ جس کو چاہوں زندگی دوں اور جس کو چاہوں مردادوں۔ نمرود نے یہاں یہی کیا کہ اس نے نکتہ بحث کو بدل دیا۔ حضرت ابراہیم نے بڑا اختیار کے معنی میں کیسی وملیت کہا تھا، نمرود نے اس کو ملکی اختیار کے معنی میں لے کر کہہ دیا کہ انا احیی دامیت ( البقرہ ۲۵۸ ) حضرت ابراہیم نے داعیانہ حکمت کے تحت اس کو نظر انداز کیا اور فرمایا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اس کو مغرب سے نکال دو۔ یہ سن کر نمرود مبہوت ہو گیا۔ آجکل کے انسانوں کے برعکس، شاید نمرود کے اندر بھی کچھ حیا تھی۔ ورنہ وہ چاہتا تو دوبارہ نکتہ بحث کو بدل کہ یہ کہہ سکتا تھا کہ ابھی تم موت وحیات کی بات کر رہے تھے اور پھر اچانک تم سورج چاند کی بات کرنے لگے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم کو خود اپنی بات پر یقین نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page