Urdu book · تصویر ملت

اسراف کا نتیجہ

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح کا طریقہ بنو امیہ کے زمانہ میں خلافت اپنے اسلامی طرز پر باقی نہ رہی ۔ اب انصاف کی جگہ ظلم ہونے لگا اور سرکاری اموال میں دیانت کے بجائے اسراف شروع ہو گیا ۔ اس زمانہ میں کچھ لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ ایسے حکمرانوں کو زکوۃ دینا درست نہیں ۔ مگر اس وقت اصحاب رسول میں سے جو لوگ موجود تھے انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ زکوۃ انھیں موجودہ حکمرانوں کو دی جائے ۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا کہ اب زکوۃ کس کو دیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ وقت کے حاکموں کو دو ۔ پوچھنے والے نے کہا کہ یہ لوگ زکوۃ کی رقم عطر پر اور اپنے قیمتی کپڑوں پر خرچ کرتے ہیں ۔ جواب دیا : ورانہ ۔ یعنی اگر چہ وہ ایسا کریں تب بھی انھیں کو دو ( ابن ابی شیبہ ) صحابی رسول کی یہ ہدایت عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے ۔ اس ہدایت کا مطلب ظالم حکمراں کے سامنے جھکنا نہیں تھا ، بلکہ لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ ان کے عمل کا رخ کیا ہونا چاہیے ۔ حکمراں کا بگاڑ ہمیشہ عوام کے بگاڑ کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ جیسے تم ہو گے ویسے ہی تمھارے حکراں ہوں گے ( كما تكونون كذلك يؤمر عليكم ) ، ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب حکراں میں بگاڑ نظر آئے تو عوام کی سطح پر اصلاح کا کام شروع کر دیا جائے ۔ درخت کے اندر اگر سوکھنے کے آثار ظاہر ہوں تو اس کی جڑ میں پانی دیا جائے گانہ کہ پتیوں میں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے جواب کے ذریعہ لوگوں کے سوچنے کے رخ کو موڑ دیا ۔ لوگ حکمراں میں بگاڑ دیکھ کر سوچنے لگے تھے کہ حکراں سے لڑیں ۔ آپ نے لوگوں کو بتایا کہ تم لوگ اپنی سوچ کو سیاست کے باہر دوسرے دائروں میں اصلاح پر لگاؤ ۔ غیر سیاسی دائرہ میں اگر تم اصلاح لانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کے بعد سیاسی دائرہ میں بھی لازماً اصلاح ہو کر رہے گی ۔ سیاست میں بگاڑ کو دیکھ کر سیاسی نظام سے لڑنے لگنا صرف ایک عاجلانہ رد عمل ہے ، قوت کے ضياع کے سوا اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ۔ اس لیے اسلام میں ایسی کارروائیوں سے منع کیا گیا ہے ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ بگاڑ کی جڑ کو سمجھا جائے اور جڑ سے اصلاح کی کوشش کی جائے ۔ اور جڑ والی اصلاح کا آغاز عوامی اصلاح سے ہوتا ہے نہ کہ حکومتی ٹکراؤ سے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page