Urdu book · تصویر ملت

کلمہ حکمت

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کلمۂ حکمت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بتاتی ہیں کہ آپ کو جب بھی دو صورتوں میں سے ایک صورت کا اختیار کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان صورت کا انتخاب فرماتے تھے (ما خير بين امرين إلا اختار ايسرهما) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دانش مند وہ نہیں جو خیر اور شر کے فرق کو جانے۔ بلکہ دانش مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا خیر ہے (ليس العاقل الذى يعرف الخير من الشر ولكنه الذى يعرف خير الشرين) العبقريات الاسلامية للعقاد، صفحہ ۵۰۵ اسی بات کو امام شافعی ؒ نے اس طرح کہا کہ دانش مند وہ نہیں ہے جس کو خیر اور شر کے درمیان انتخاب کرنا ہو اور وہ ایک چیز کا انتخاب کر لے۔ دانش مند تو وہ ہے جو دو شر کے درمیان پڑ جائے اور پھر دونوں میں سے جو آسان ہے اس کا انتخاب کرے (ليس العاقل الذي يقع بين الشر والخير فيختار - انما العاقل الذى يقع بين الشرين فيختار ايسرهما الامام الشافعي، تالیف عبد الحليم الجندی، القاهره، صفحہ ۴۹ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ شہر میں غیر مسلموں کا ایک جلوس نکلتا ہے۔ وہ مسلم مخالف نعرہ لگاتا ہوا مسلمانوں کے محلہ سے گزرتا ہے جو مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر دینے والا ہے۔ یہ بظاہر شر کی ایک صورت حال ہے۔ لیکن بار بار کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمان اگر اس شر کو مٹانے کے لیے اٹھیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ جلوس کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کے بجائے عملاً جو چیز پیش آتی ہے وہ یہ کہ جلوس کا معاملہ بڑھ کر فساد کا معاملہ بن جاتا ہے۔ گویا اس مسئلہ میں مسلمانوں کے لیے واقعی انتخاب جلوس اور بے جلوس میں نہیں ہے۔ بلکہ جلوس اور فساد میں ہے۔ اب مذکورہ اسلامی اصول کے مطابق، عقل مند وہ ہے جو جلوس کو گوارہ کر لے تاکہ وہ ہلاکت خیز فساد سے بچ جائے۔ موجودہ دنیا میں تمام معاملات کا حال یہی ہے۔ یہاں اکثر اوقات کم شر اور زیادہ شر کے درمیان انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے نہ کہ خالص شر اور خالص خیر کے درمیان۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page