ذہنی تربیت
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہنی تربیت اسلام سے پہلے کے دور کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔ جاہلیت سے مراد جہالت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد بے خبری ہے۔ اسلام کے ظہور سے پہلے عرب کے لوگ بے خبری کے دور میں تھے، اسلام نے ان کو باخبری کے دور میں پہنچا دیا۔ اسلام سے پہلے وہ بے شعوری کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔ اسلام نے ان کی ذہنی تربیت کر کے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ باشعور زندگی گزار سکیں ۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ لڑنے بھڑنے کو کمال سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ اکثر لڑتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ صحیح اور غلط ، اپنے اور غیر کی تفریق کے بغیر انھوں نے لڑنے کو بذاتِ خود اپنا مقصود بنا لیا تھا۔ ایک جاہلی شاعر فخر کے ساتھ کہتا ہے کہ کبھی ہم خود اپنے بھائی بنو بکر پر حملہ کر دیتے ہیں جبکہ لڑنے کے لیے کوئی دوسرا موجود نہیں ہوتا : و احیاناً علی بکر أخينــــــا اذا مالم نجد الا اخانا اسلام نے ان کی ذہنی اور فکری تربیت کر کے ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ وہ ایک اور دوسرے میں فرق کریں۔ وہ حق کے پرستاروں اور حق سے بغاوت کرنے والوں کے درمیان تمیز کریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بتایا گیا کہ وہ منکرین پر سخت اور آپس میں نرم ہیں (اشداء علی الكفار رحماء بينهم) الفتح ۲۹ قرآن کی اس آیت کی تشریح شاہ عبدالقادر صاحب نے مختصر طور پر اس طرح کی ہے جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو، مادہ سب جگہ برابر چلے۔ اور جو ایمان سے سنور کر آئے، وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کس طرح آدمی کے ذہن کی تربیت کرتا ہے اور اس کے مزاج کو منفی رخ سے مثبت رخ کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اسلام آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو سمجھے۔ وہ یہ جانے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں چپ رہنا ہے ۔ کہاں لڑنا ہے اور کہاں برداشت کرنا ہے۔ کہاں اقدام کرنا ہے اور کہاں یہ کوشش کرنا ہے کہ اقدام کی نوبت نہ آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader