Urdu book · تصویر ملت

دریا کے بغیر پل

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

دریا کے بغیر پل سابق روسی وزیر اعظم نکیتا خروشیف نے کہا تھا : سیاست داں ہر جگہ ایک ہی قسم کے ہیں ۔ وہ ایک پل بنانے کا وعدہ کرتے ہیں ، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ وہاں سرے سے کوئی دریا موجود نہ ہو ۔ Politicians are the same all over. They promise to build a bridge even where there is no river. دنیا دار لیڈروں کی یہ سیاست خود مسلم لیڈروں میں بھی پوری طرح آگئی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا دار لیڈر اپنے عوام کی پسندیدہ زبان بولتے ہیں اور مسلم لیڈر مسلمانوں کی نفسیات کے اعتبار سے اپنے لیے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں ۔ ایک دنیا دار لیڈر آگے کہے گا کہ " جستا راج لاؤ " تو مسلم لیڈر کا نعرہ ہوگا " قرآنی حکومت قائم کرو " مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں کیوں کہ دونوں جگہ صرف نعرے ہیں ۔ جشتا راج ہو یا قرآنی راج ، دونوں ہی کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ سماج میں اس کے موافق زمین تیار کی جائے ۔ مگر دونوں ہی نہ زمین تیار کیے بغیر لاؤڈ اسپیکر پر الفاظ کا طوفان برپا کر رہے ہیں ۔ " پل " کی باتیں ہو رہی ہیں جب کہ " دریا " کا ابھی کوئی وجود ہی نہیں ۔ مسلم ملکوں میں عوام کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ پاکستان اور ایران میں شہوانی فلموں پر پابندی لگائی گئی تو لوگوں نے کیسٹ کے ذریعہ وی سی آر پر فلموں کو دیکھنا شروع کر دیا ۔ اور رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ اپنے ملک کے " ظالموں " کو مٹانے کے لیے تمام مسلم لیڈر ایک محاذ پر متحد ہو جاتے ہیں ۔ مگر ظالم کے ہٹنے کے بعد ہی ان کا " بے نظیر اتحاد " ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اقتدار کے لیے خود آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جس معاشرہ میں عوام وخواص کا یہ حال ہو وہاں چلے اور جلوس کی سیاست سے اسلامی نظام کس طرح قائم ہو جائے گا ۔ کام کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے بنیاد تعمیر کی جائے ۔ قوم کو باشعور بنایا جائے ۔ اس کے اندر کردار پیدا کیا جائے ۔ اس کے مختلف طبقوں کو متحد کیا جائے ۔ وہ ذرائع فراہم کیے جائیں جو موجودہ زمانہ میں کوئی مؤثر کام کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں ۔ مگر ہمارے لیڈر اس قسم کا بنیادی کام نہیں کرتے ۔ وہ اول دن سے بڑے بڑے اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ یہ صرف لیڈری کی تعمیر ہے نہ کہ ملت کی تعمیر ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page