تجارتی شرکت
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
تجارتی شرکت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔ مکہ کے لوگ اس زمانہ میں زیادہ تر تجارت کیا کرتے تھے۔ آپ نے کبھی نبوت سے پہلے تجارت فرمائی اور اس سلسلہ میں لوگوں کے ساتھ شرکت کے معاملات کیے۔ اس سلسلہ میں کچھ واقعات سیرت اور حدیث کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں۔ عبد اللہ بن سائب مکہ کے باشندہ تھے۔ انھوں نے بعد کو اسلام قبول کیا۔ عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شریکِ تجارت تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ آکر میں آپ سے ملا۔ آپ نے پوچھا کہ مجھ کو پہچانتے ہو۔ میں نے کہا کیوں نہیں۔ آپ کے ساتھ تو میری تجارتی شرکت تھی۔ اور آپ کتنے اچھے شریک تھے۔ آپ نہ کبھی دھوکا دیتے تھے اور نہ کسی بات پر جھگڑتے تھے (کنت شريکی فنعم الشريك لا تماری ولا تماری) اسی طرح قیس بن سائب مخزومی کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں آپ کی شرکت میں تجارت کی ہے۔ آپ بہترین شریکِ تجارت تھے۔ آپ نہ جھگڑتے تھے اور نہ کسی قسم کا مناقشہ کرتے تھے ( وكان خير شريك لايمارى ولا يشارى) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تاجرانہ شرکت کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے کیا چیز درکار ہے۔ یہ دو چیزیں ہیں ــــــ باہمی اعتماد کو باقی رکھنا، اور نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کرنا۔ جب کبھی دو یا دو سے زیادہ آدمی مل کر کاروبار کریں تو ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ایک آدمی دوسرے کو فریب دے کر ذاتی نفع حاصل کرے۔ ایسی روش شریکوں کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ اور شرکت کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جو شخص تجارتی شرکت کو باقی رکھنا چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ ایسے ہر فعل سے انتہائی حد تک اپنے آپ کو بچائے۔ اسی طرح تاجرانہ شرکت میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اختلافی صورت پیش آتی ہے۔ ایسے مواقع پر نزاع اور تکرار سے بچ کر وسعتِ ظرف کا معاملہ کرنا چاہیے۔ اختلافی مسائل پر نزاع سے شرکت ٹوٹتی ہے، اور اختلافی مسائل میں عالی ظرفی کا طریقہ اختیار کرنے سے شرکت برقرار رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader