Urdu book · تصویر ملت

دے کر پانا

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

دے کر پانا ڈاکٹر تارا چند کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ”ہندوستانی کلچر پر اسلام کے اثرات“ سوا تین سو صفحہ کی یہ کتاب ایک مفید اور منصفانہ کتاب ہے اور ہر شخص کو اسے پڑھنا چاہیے۔ اس کتاب کے ایک حصہ میں فاضل مصنف نے دکھایا ہے کہ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان تاجر جنوبی ہند کے ساحل پر اترے تو یہاں ان کو زبردست اہمیت (Great importance) حاصل ہو گئی۔ مقامی لوگوں نے ان کو ”ما پلا“ کا خطاب دیا جس کے معنی عظیم فرزند کے ہوتے ہیں تقریبات کے موقع پر مسلمان نمبرو تری برہمن کے ساتھ بٹھائے جاتے تھے۔ یہ ایک ایسا اعزاز تھا جو اس وقت نائر لوگوں کو بھی حاصل نہ تھا (۳۵) وغیرہ وغیرہ کالی کٹ کے راجہ زمورن نے ان عرب مسلمانوں کی غیر معمولی قدر و منزلت کی۔ حتیٰ کہ اس نے واضح طور قبول اسلام کی حوصلہ افزائی کی تاکہ اسے اپنے ان جہازوں کے لیے کارکن مل سکیں جن پر اس کی عظمت و ترقی کا انحصار تھا۔ اس نے یہ حکم دے دیا کہ اس کی مملکت میں ماہی گیروں کے ہر گھرانے میں سے ایک یا دو مرد افراد کی تربیت مسلمان کی حیثیت سے کی جائے : The Zamorin thought so highly of the Muslims that he definitely encouraged conversion in order to man the Arab ships on which he depended for his aggrandizement. He gave orders that in every family of fishermen (Makku- vans) in his dominion one or more of the male members should be brought up as Muhammadans. Dr. Tara Chand, Influence of Islam on Indian Culture, The Indian Press Ltd., Allahabad, 1963, p. 36 یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب کہ عرب مسلمان جہازرانی میں ساری دنیا پر فوقیت رکھتے تھے۔ اپنی اس امتیازی خصوصیت کے ساتھ جب وہ ہندوستان کے ساحل پر اترے تو یہاں کے ذمہ داروں کو محسوس ہوا کہ وہ ہماری بحری ضرورت ہیں۔ ان کے ذریعہ ہم اپنی ترقی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ ابتدائی مسلمان اہل ہند کے لیے قیمتی سرمایہ بن گئے۔ انھوں نے دوسروں کو دیا، اس لیے دوسروں نے بھی انھیں دیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف دوسروں سے مانگ رہے ہیں، اس لیے وہ اب تک پانے والے بھی نہیں بنے۔ موجودہ دنیا میں دینے والے کو دیا جاتا ہے نہ کہ مانگنے والے کو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page