Urdu book · تصویر ملت

ایک واقعہ

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک واقعہ ۶ ستمبر ۱۹۸۹ء کو میں انبیٹھہ (سہارن پور) میں تھا۔ وہاں ایک واقعہ معلوم ہوا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد صابری (پیدائش ۱۹۵۱) نے بستی کے باہر ۱۹۸۵ میں ایک زمین خریدی۔ اس کا رقبہ تقریباً پانچ ایکڑ ہے۔ انھوں نے زمین حاصل کرنے کے بعد اس کے چاروں طرف مینڈی بنائی۔ اس زمین سے متصل یہاں کا مرگھٹ ہے۔ مینڈی بنانے کے بعد کچھ ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ آپ نے مینڈی غلط بنائی۔ اس میں مرگھٹ کی زمین کا ایک حصہ شامل ہو گیا ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے وہ افراد تھے جو مقامی طور پر متعصب اور فرقہ پرست کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صابری نے کہا کہ آپ لوگ پیمائش کرا لیں اور جتنی زمین پیمائش میں نکلے، اس کا دگنا لے کر مرگھٹ میں شامل کر لیجئے ۔ یہ کام آپ مجھ سے پوچھے بغیر خود سے کر لیں۔ مجھ کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اگست ۱۹۸۷ء کا واقعہ ہے۔ ڈاکٹر شاہد صابری راستہ سے گزر رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ بہت سے ہندو آگے کی طرف جا رہے ہیں ۔ ملاقات کے بعد انھوں نے بتایا کہ آج ہم آپ کی زمین کو ناپنے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صاحب نے کہا کہ آپ لوگ ضرور جائیں اور ناپنے کے بعد مرگھٹ کی جو زمین ہماری طرف نکلے اس کو بلا بحث اس میں شامل کر لیں ۔ ان لوگوں نے کہا کہ آپ بھی چلیے تاکہ آپ کے سامنے پیمائش کی جاسکے ۔ ڈاکٹر شاہد صابری بھی کچھ دیر بعد اپنی زمین پر پہنچ گئے۔ انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی ۔ بلکہ ہندو صاحبان کو آزادانہ طور پر ناپنے کا موقع دیا۔ انھوں نے بار بار ناپا۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ ان کا شبہ غلط تھا۔ ڈاکٹر شاہد صاحب نے مینڈی بالکل صحیح بنائی ہے، بلکہ ایک طرف خود اپنی کچھ زمین مرگھٹ کی طرف چھوڑ دی ہے۔ اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ اس کے بعد مقامی ہندوؤں نے ڈاکٹر شاہد صابری سے کہا کہ آپ انبیٹھہ کی چیرمینی کے لیے کھڑے ہو جائیں ۔ یہاں کے ہندو اور مسلمان دونوں آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ بلا مقابلہ کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر ڈاکٹر شاہد صابری نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page