Urdu book · تصویر ملت

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کا سبق سابق امریکی صدر جارج بش نے ۵ اکتوبر ۱۹۹۱ء کو اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ایک شخص خارجہ پالیسی اور فوجی معاملات کو اقتصادی ترقی اور اصلاح سے جدا نہیں کر سکتا۔ دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ بڑھی ہوئی ہتھیار بندی اور جارحیت عراق کے لیے کتنی زیادہ مہنگی پڑی۔ دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ سیاسی اور فوجی طاقت پر بہت زیادہ توجہ دینا اور اقتصادیات کو نظر انداز کرنا سوویت یونین کے لیے کتنا زیادہ اور شاید مستقل طور پر نقصان کا باعث ثابت ہوا : موجودہ دنیا میں کبھی کبھی ضرورت کے طور پر طاقت کو بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ مگر طاقت کا استعمال صرف انتہائی ضرورت کے تحت وقتی طور پر کیا جا سکتا ہے۔ طاقت کو مستقل پالیسی بنانا کسی کے لیے بھی مفید نہیں ، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم کے لیے، نہ منی پاور کے لیے اور نہ سپر پاور کے لیے۔ کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اقتصادی ترقی اور ہتھیاروں کی دوڑ کو بیک وقت جاری رکھ سکے۔ ہتھیار بندی میں زیادہ وسائل لگانا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ اقتصادی ترقی میں اسی کے قدر کمی کرنی پڑے۔ ایسی پالیسی ہمیشہ مہلک ہوتی ہے۔ ماضی اور حال کی تاریخ میں اس کے عبرت ناک نمونے موجود ہیں۔ امن عمومی پالیسی کا عنوان ہے اور جنگ استثنائی اقدام کا عنوان۔ کسی بھی فرد یا قوم کے لیے صحیح ترین پالیسی یہی ہے کہ وہ امن اور حسن تدبیر کے ذریعہ دوسروں کے ساتھ اپنے معاملات درست کرے۔ جنگ یا ٹکراؤ کا طریقہ صرف شدید ترین ضرورت کے لیے اتفاقی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page