صبر و برداشت
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
صبروبرداشت حضرت ابوسعید سعد بن مالک بن سنان الخدری کی ایک روایت ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے اپنی ”صحیح“ میں نقل کیا ہے۔ اس کا ایک جز یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو اللہ کی طرف سے صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ بڑا عطیہ نہیں دیا گیا۔ (وما أعطی أحد عطاء خیراً أو اوسع من الصبر) صبر تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ خواہ اس کا تعلق دنیا کی کامیابی سے ہو یا آخرت کی کامیابی سے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی یہ تعلیم اعلیٰ ترین فطری صداقت تھی ۔ چنانچہ وہ ساری دنیا میں مختلف شکلوں میں دہرائی گئی۔ شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲ - ۱۲۱۳) نے اس کو فارسی زبان میں اس طرح بیان کیا کہ صبر کڑوا ہے ، مگر اس کا پھل میٹھا ہے : صبر تلخ است ولیکن بر شیریں دارد اس کے بعد زندگی کا یہ قیمتی سبق عالمی ادب میں پہنچا اور ہر ملک میں اس کو کسی نہ کسی صورت سے نقل کیا گیا ۔ مثلاً فرانسیسی مفکر روسو (۱۷۷۸ - ۱۱۲۱) نے یہی بات دوبارہ اس طرح کہی کہ برداشت کڑوی چیز ہے مگر اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے : Patience is bitter, but its fruit is sweet. صبر کا کڑواپن چند منٹ کے لیے ہوتا ہے ، مگر بے صبری کے نتیجہ میں جو کڑواپن آتا ہے وہ برسوں تک بھی ختم نہیں ہوتا ۔ صبر کا جھٹکا ذہن کے اندر صرف نفسیاتی طور پر سہنا پڑتا ہے، مگر بے صبری وہ چیز ہے جو آخر کار جانوں کو ہلاک کرتی ہے۔ جائیدادوں کو برباد کرتی ہے۔ وہ آدمی کو آگ اور خون کے دریا میں پہنچا دیتی ہے ۔ صبر ایک اصول ہے جب کہ بے صبری صرف ایک منفی رد عمل ہے۔ صبر کرنے والا اپنے آپ کو با اصول انسان ثابت کرتا ہے ۔ اس کو اندرونی طور پر اطمینان کی یہ لذت ملتی ہے کہ وہ کٹھن گھڑیوں میں بھی اصول پرٹم رہا۔ اس کے برعکس بے صبر انسان کے حصہ میں یہ بد نصیبی آتی ہے کہ وہ وقتی طور پر بھڑک کر ایک جذباتی کارروائی کرے ، اور پھر ساری عمر پچھتاتا رہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader