Urdu book · تصویر ملت

بدتر از گناه

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

بدتر از گناه ٹائمس آف انڈیا (۱۵ ستمبر، ۱۹۷۸) میں راقم الحروف کا ایک مضمون چھپا تھا۔ ایک بزرگ نے اس کو غلط شکل میں پیش کرکے مجھ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ان صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں تنبیہ کی۔ میں نے کہا کہ اگر بات کو غلط شکل میں پیش کرکے مطعون کرنا درست ہو تو اس طرح آپ کسی بھی شخص کو مطعون کرسکتے ہیں، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ صحیح کیوں نہ ہو۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے ۱۳۲۴ھ میں ایک فتویٰ مرتب کیا۔ اس میں چار دیوبندی علما (مولانا قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا خلیل احمد سہارن پوری، مولانا اشرف علی تھانوی) کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ تکفیر کا یہ فتویٰ بظاہر اتنا قطعی تھا کہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی جب حجاز گئے اور مکہ اور مدینہ کے عرب علما کو اسے دکھایا تو حرمین کے علما نے بھی اس کو صحیح سمجھ کر اس کی تصدیق کردی۔ اور مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے ہندوستان واپس آکر اس کو ”حسام الحرمین“ کے نام سے شائع کردیا۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ فتویٰ صحیح نہ تھا۔ کیونکہ اس میں مذکورہ علما دیوبند کی عبارتوں کو غلط شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ میری یہ بات سن کر مذکورہ بزرگ نے کہا کہ میں نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تھی۔ فلاں صاحب نے آپ کے خلاف ایک مراسلہ چھپایا تھا، اسی کو میں نے دہرادیا۔ میں نے کہا کہ آپ کی اس توجیہہ سے آپ کا جرم کم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اس کو بیان کرنے لگے (کفی بالمری کذباً ان يحدث بكل ما سمع)۔ اگر آپ خود سے ایسی بات کہیں تو آپ مسخ حقیقت (Distortion of facts) کے مجرم ہیں اور اگر آپ اخباری خط کو پڑھ کر بلا تحقیق اس کو دہرائیں تو حدیث کے مطابق کذب بیانی کے مجرم۔ غلطی کو چھپانے کے لیے جھوٹی توجیہہ کا سہارا لینا عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page