Urdu book · تصویر ملت

واحد حل

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

واحد حل دہلی کے روز نامہ قومی آواز (۲ جنوری ۱۹۹۰) میں ایک خبر چھپی ہے ۔ اس کا عنوان ہے "مسلم بارات میں چاقو چل گیا"۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق خبر حسب ذیل ہے: " ۳۱ دسمبر ۱۹۸۹ء کی شام کو جامع مسجد کے علاقہ میں ایک شادی کی تقریب کے دوران پرانی دشمنی کی وجہ سے چاقو چل گئے ۔ گلّی شاہ، تارا کے ناصر، محمد اقبال اور ان کے ایک ساتھی نے مبینہ طور پر محمد اسلم اور محمد میاں کو چاقو مار کر زخمی کر دیا۔ دونوں زخمی جے پر کاش اسپتال میں داخل ہیں، جب کہ تینوں ملزم فرار ہو گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذاکر حسین کالج کے زمانہ طالب علمی میں اسلم نے کبھی ناصر کی پٹائی کر دی تھی۔ تب سے دونوں میں رنجش چلی آ رہی تھی۔ آج بارات میں ان دونوں کے دوست عادل نے ان کو اپنی شادی پر مدعو کیا تھا۔ دونوں اپنے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔ تقریب کے دوران دونوں میں کسی بات پر تکرار ہو گئی۔ اس کے نتیجہ میں ناصر اور اقبال غصہ ہو گئے اور اسلم اور محمد میاں کو چاقو مار کر بھاگ گئے۔ جامع مسجد کی پولیس نے اقدام قتل کا کیس درج کر لیا ہے، تاہم ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی گرفتاری نہیں ہو سکی ہے"۔ دو مسلمانوں کے درمیان اس قسم کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں ۔ اسی سے اس ہندو مسلم واقعہ کو سمجھا جا سکتا ہے جو زیادہ بڑے پیمانے پر ملک میں جاری ہے ۔ ۱۹۷۲ء میں ہندوؤں کو یہ شکایت ہوئی کہ مسلمانوں نے ان کی "بھارت ماتا" کے دو ٹکڑے کروا دیئے۔ مزید یہ کہ لیڈروں کی حماقت کے نتیجہ میں اس موقع پر دونوں فرقوں میں زبردست مار کاٹ ہوئی۔ ماضی کی یہ تلخ یاد ہندو کے ذہن میں باقی ہے ۔ عام حالات میں وہ زندگی کے مسائل کے نیچے دبی رہتی ہے ۔ مگر جب کبھی ہندو اور مسلمان کے درمیان کسی بات پر تکرار ہو جاتی ہے تو ماضی کی تمام یادیں از سر نو جاگ اٹھتی ہیں ۔ اب ہندو اپنے انتقامی جذبات کو لے کر مسلمانوں کے اوپر ٹوٹ پڑتا ہے ۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے عقلمندی یہ ہے کہ وہ "تکرار" کے مواقع کو نہ آنے دیں۔ وہ اعراض کی پالیسی پر عمل کر کے سوئے ہوئے جذبات کو سویا رہنے دیں ۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا دوسرا کوئی حل نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page