Urdu book · تصویر ملت

جوابی فارمولا

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

فرضی خطرہ قدیم مکہ میں ایک شخص تھا ۔ اس کا نام روایات میں اسحارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف بتایا گیا ہے ۔ اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کی دعوت پیش کی تو اس نے کہا : اِنّا نَعْلَمُ ان الدّنِی تَقُولُ حَقّ۔ وَلكِنا ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ بلا شبہ حق ان اَتَّبَعنَاكَ خِفنا ان تخرجنا العرب من ہے۔ لیکن اگر ہم آپ کی پیروی کریں تو ہم کو ڈر ہے ارض مكة ( التفسير المظهری ) کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ اس ہدایت کا اتباع کریں تو ہم کو ہماری زمین سے اچک لیا جائے گا( وق قالوا ان نتبع الھدی معك نتخطّف من ارضنا ) القصص ، ۵۷ مکہ کے لوگوں کی سرداری اور معاش دونوں کا خاص ذریعہ یہ تھا کہ مکہ کے تمام قبیلوں کا بت انہوں نے کعبہ میں رکھ دیا تھا۔ اس طرح انھیں تمام قبائل عرب کی سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ اسی کے ساتھ یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اپنے اپنے بتوں پر نذرانہ چڑھانے کے لیے مکہ آتے تھے، یہ تمام نذرانے مکہ والوں کو ملتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خدا کا پیغام ان کے سامنے پیش کیا تو ان کی فطرت نے اس کے برحق ہونے کی تصدیق کی۔ مگر ان کا ذہن اس سوال میں اٹک گیا کہ اگر وہ کہیں کہ خدا صرف ایک ہے۔ بقیہ تمام دیوتا فرضی ہیں تو وہ اچانک تمام قبائل سے کٹ جائیں گے ۔ اس کے بعد ان کی سرداری بھی چھن جائے گی اور ان کی معاش بھی۔ ٹھیک یہی صورت موجودہ زمانہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی ہے۔ ان کے سامنے قرآن کی بات رکھی جائے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ قرآن کے مطابق یہی صحیح بات ہے۔ مگر فوراً ہی کچھ سوالات سامنے آکر انھیں اس کی طرف سے شبہ میں ڈال دیتے ہیں ۔ اگر ہم صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو ہندو ہمارے اوپر دلیر ہو جائے گا۔ اگر ہم سیاسی شور و غل نہ کریں تو ملک میں ہونے والے سیاسی عملی سے ہم کٹ جائیں گے، اگر ہم مطالبہ اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ دیں تو ہم اپنے دستوری حقوق سے محروم ہو کر رہ جائیں گے ۔ وغیرہ اس قسم کی تمام باتیں بلاشبہ شیطانی وسوسہ ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page