Urdu book · تصویر ملت

بہتر حل

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

بہتر حل ۲ اکتوبر ۱۹۸۹ کو تامل ناڈو کے حکیم محمد صفدر شریف (۴۵ سال) سے ملاقات ہوئی: H.M. Safdar Shareef, 26, Nadeemullah Makkan Street, Salem-636001 انھوں نے سیلم پور کے ایک قصبہ تمم پٹی (Tammampatti) کا ایک واقعہ بتایا۔ یہاں کی آبادی ۱۰ ہزار ہے جس میں تقریباً ۹۰ فی صد مسلمان بستے ہیں۔ تمم پٹی میں ۲۶ فروری ۱۹۸۹ کو ہندوؤں کا ایک مذہبی جلوس نکلا۔ یہ جلوس ایک مندر سے شروع ہو کر ایسی سڑک سے گزرنے والا تھا جس پر ایک مسجد واقع ہے۔ مسلمانوں کو اس روٹ پر اعتراض ہوا۔ انھوں نے کہا کہ جلوس میں باجا اور شور ہو گا۔ اس سے ہماری عبادت میں خلل پیدا ہو گا۔ اس موقع پر ایک ہیڈ کانسٹیبل مسلمانوں سے ملا۔ اس نے کہا کہ فریق ثانی کی طرف سے امن کو برہم کرنے کی پوری تیاری ہے۔ مگر اس کا حل یہ ہے کہ آپ لوگ بالکل خاموشی اختیار کر لیں ۔ ہرگز کوئی مداخلت نہ کریں۔ اس کے بعد پولیس اپنے آپ ان سے نپٹ لے گی۔ مسلمانوں نے اس مشورہ کو مان لیا۔ انھوں نے مقررہ وقت پر مسجد میں اندر سے تالا لگایا اور نمازیوں سے کہہ دیا کہ آپ چپ چاپ اپنی نماز ادا کریں۔ جلوس وہاں رات کو عشار کی نماز کے وقت پہنچا۔ وہ لوگ باجا بجاتے ہوئے اور نعرہ لگاتے ہوئے مسجد والی سڑک پر پہنچے۔ مسجد میں ان کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ مگر مسلمانوں نے کوئی روک ٹوک نہ کی۔ اس وقت پولیس سامنے آئی۔ اس نے جلوس والوں سے کہا کہ تم لوگ مسجد کے سامنے باجا نہ بجاؤ۔ اور چپ چاپ یہاں سے گزر جاؤ۔ مگر وہ لوگ نہیں مانے۔ پولیس نے پہلے آنسو گیس چھوڑا۔ مگر مجمع بہت بڑا تھا، قابو میں نہ آیا۔ اس کے بعد پولیس نے فائرنگ شروع کر دی ۔ اس کے نتیجہ میں کئی لوگ زخمی ہوئے اور دو ہندو نوجوان مرگیے۔ اب جلوس منتشر ہو گیا۔ ایسے تمام مواقع پر یہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ ان مواقع پر مسلمان جب خود مداخلت کی کوشش کرتے ہیں تو مسئلہ ہندو۔ مسلم بن جاتا ہے۔ مسلمان اگر خاموش رہیں تو مسئلہ ہندو ۔ پولیس رہے گا، اور پھر پولیس زیادہ بہتر طور پر وہ کام کر دے گی جس کو مسلمان صرف ناقص طور پر کرنا چاہتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page