توازن ، تدرتج
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
ملکوں میں تعلیم و ترقی کے لئے بھیج رکھا ہے یا ان کو ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ہوسٹلوں میں داخل کر رکھا ہے جہاں وہ ملی سیاست کے ماحول سے الگ رہ کر تعلیمی ترقی کے مراحل طے کر رہے ہیں۔ وہ انہیں قومی حقوق کی سیاست سے پوری طرح دور رکھتے ہیں۔ اپنے بیٹوں کے لئے ترقی کا راز وہ سیاست سے علیحدگی میں سمجھتے ہیں۔ اور قوم کے بیٹوں کے لئے ترقی کا راز سیاست کے طوفان میں غوطہ خوری میں۔ ان حضرات کی یہ دہر اپایسی بتاتی ہے کہ یا تو انہیں اپنی بات پر یقین نہیں ، یا ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں اور قوم کے بیٹوں کے معاملہ میں غیر سنجیدہ۔ اب تو ازن اور تدریج کے معاملہ کو ایک اصولی مثال کے ذریعہ سمجھیئے۔ ایک شخص دو ہزار روپیہ مہینہ کماتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے کہ اس میں سے ایک ہزار روپیہ تفریحی مدوں میں خرچ کر دے تو اس سے کہا جائے گا کہ توازن کے ساتھ خرچ کرو۔ یعنی اپنی آمدنی کے لحاظ سے اپنا بجٹ بناؤ۔ جو مد زیادہ اہم ہے اس میں زیادہ رقم لگاؤ اور جو مد کم اہم ہے اس میں کم رقم خرچ کرو۔ آمد اور خرچ میں ہم آہنگی قائم کرنے کا مسئلہ ہو تو اس کے لئے کلیدی لفظ توازن ہوگا۔ اب دوسری مثال لیجئے۔ ایک شخص کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب اگر توازن کے اصول کو منطبق کہتے ہوئے باپ ایسا کرے کہ جس طرح وہ بچہ کی غذا اور حفاظت کا انتظام کرتا ہے اسی طرح وہ اول رونے سے اس کے کان میں سیاست کے اسباق بھی داخل کرنا شروع کر دے۔ وہ اس کو جنس کے رموز سمجھانے کے لئے بھی ایک معلم مقرر کر دے۔ اگر کوئی باپ اس طرح اپنے بچہ کی متوازن تربیت شروع کر دے تو یہ بلا شبہ ایک لغو فعل ہوگا۔ کیوں کہ یہ زندگی کا معاملہ ہے۔ اور زندگی کا ارتقاء ہمیشہ تندرتیج کے اصول پر ہوتا ہے نہ کہ توازن کے اصول پر۔ توازن بجائے خود ایک اعلیٰ اصول ہے۔ گز زندگی کی تعمیر کے معاملہ میں کلیدی لفظ توازن نہیں ہے بلکہ تدریج ہے۔ تندرتیج کے اصول پر عمل کر کے ہی ہم ترقی کی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔ توازن کے اصول پر عمل کرنے کی صورت میں ہم کہیں نہیں پہنچیں گے۔ خود ہماری قریبی تاریخ میں اس کی واضح مثال موجود ہے۔ اورنگ زیب (۱۷۰۷ء - ۱۶۱۸ء) سے لے کر اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر ہند کے مسلمان سترھویں صدی کے آخر سے لے کر بیسویں صدی کے آخر تک پورے تین سو سال سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader