Urdu book · تصویر ملت

نقصان در نقصان

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

ناقابل بیان قربانیوں کے بعد بیرونی قومیں ہمارے ملکوں سے واپس چلی گئیں تو اب یہ حال ہے کہ ہمارے تمام بہترین افراد اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر خود مغربی ملکوں میں پہونچ گیے اور اب وہ انھیں قوموں کے زیر سایہ زندگی گزارنے کو فخر سمجھ رہے ہیں جن کو ان کے اکابر نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی لعنت قرار دیا تھا۔ کیسے عجیب تھے یہ اکابر اور کیسے عجیب ہیں اکابر کے یہ اختلاف ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان ترقی اور کامیابی چاہتا ہے ۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو انسان کے اندر سے کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ ماضی کے رہنماؤں نے اگر ایسا کیا ہوتا کہ جن بے شمار وسائل کو وہ مغربی قوموں کے خلاف لڑائی میں استعمال کرتے رہے ان کو وہ خود اپنے ملک کی علمی اور تمدنی ترقی میں استعمال کرتے تو دردناک مہاجرت کا یہ واقعہ ، کم از کم اتنے بڑے پیمانہ پر ہرگز پیش نہ آتا ۔ ایسی صورت میں حوصلہ مند افراد خود اپنے ملک میں وہ مواقع پا لیتے جن کو استعمال کر کے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کر سکیں ۔ تیسری دنیا میں آزادی عمل کے مواقع نہ ہونا ۔ اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کا فقدان ، اپنے حوصلوں کے مطابق ترقی کے راستہ میں بڑھتے رہنے والے حالات کی غیر موجودگی ، یہ وہ چیزیں ہیں جو اس واقعہ کو ظہور میں لارہی ہیں جس کو مشرقی ذہن کا مغربی دنیا کی طرف نکاس (Brain drain) کہا جاتا ہے ۔ اجتماعی حالات بے حد نازک ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ بے شمار پیچیدگیاں وابستہ ہوتی ہیں ۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اصلاحی کام کرنا الجھے ہوئے دھاگے کو سلجھانے کے ہم معنی ہے ۔ ایسی حالت میں جو لوگ اجتماعی زندگی میں نفرتوں کی سیاست لے کر کھڑے ہو جائیں وہ یا تو حد درجہ غیر سنجیدہ ہیں یا حد درجہ نادان ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page