Urdu book · تصویر ملت

بے خبری

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد چھ گھنٹے کے اندر ہندوستانی فوج مالدیپ (Male) کے ہوائی اڈہ پر اترگئی۔ اس نے چند گھنٹوں کے آپریشن میں لطفی اور اس کے ساتھیوں کو عین اس وقت گرفتار کر لیا جب کہ وہ اپنی سمندری کشتیوں کے ذریعہ سری لنکا کی طرف بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مامون عبدالقیوم کی حکومت بحال ہوگئی۔ دہلی کے انگریزی ہفت روزہ انڈیا ٹوڈے (۳۰ نومبر ۱۹۸۸) نے اس معاملہ کی تفصیلی رپورٹ دی ہے۔ اس نے بجا طور پر لکھا ہے کہ مالدیپ پر حملہ کرنے والے اپنے حملہ میں کامیاب ہو سکتے تھے، اگر انہوں نے احتیاطی تدبیر پر عمل کیا ہوتا۔ اور ٹیلی فون ایکسچینج اور ہوائی اڈہ پر قبضہ کرکے ان کو ناقابل استعمال بنادیتے : The attackers could have made it if they had taken care to neutralize the telephone exchange and the airport (45). عبداللہ لطفی کو شاید قدیم صدارتی محل کا علم تھا۔ جس کی حیثیت صرف مقامی قلعہ کی ہوتی تھی۔ اس کو جدید صدارتی محل کا علم نہ تھا جو مواصلات کے سائنسی وسائل کے ذریعہ پورے عالم سے مربوط ہوتا ہے۔ قدیم شاہی محل کے لیے سمندر اور پہاڑ حائل ہو جاتے۔ مگر جدید شاہی محل کی راہ میں کوئی سمندر یا کوئی پہاڑ حائل نہیں ۔ وہ خلائی مواصلات کے ذریعہ پیغام رسانی کر سکتا ہے، اور فضائی سواریوں کے ذریعہ اپنے لیے مدد بلا سکتا ہے۔ مالدیپ کا یہ واقعہ علامتی طور پر جدید مسلم تاریخ کی تصویر ہے ۔ وہ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کے ناکام اقدامات کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے بے شمار اقدامات کیے مگر ان کے تمام اقدامات بلا استثناء ناکام رہے۔ اس کی وجہ دوبارہ وہی تھی جو عبداللہ لطفی کے مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ہمارے رہنماؤں نے معاملہ کے ایک پہلو کو جانا مگر وہ معاملہ کے دوسرے پہلو سے بالکل بے خبر رہے ۔ اور موجودہ دنیا میں جو لوگ اس قسم کی بے خبری کا ثبوت دیں، ان کے اقدامات کے لیے بدترین ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page