Urdu book · تصویر ملت

یوٹرن کی ضرورت

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کے مسلمانوں میں منفی سوچ ابھر آئی۔ اس سوچ کو ہمیں بدلنا ہے اور دوبارہ مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ پیدا کرنا ہے۔ یہی ان کے لئے یوٹرن ہے، اور اسی میں ان کی تمام ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ اس منفی ردعمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قومیں مسلمانوں کو دشمن کے روپ میں دکھائی دینے لگیں۔ انھوں نے ان قوموں سے جہاد کے نام پر ٹکر او شروع کر دیا۔ مفروضہ دشمنوں کے خلاف یہ محاذ کہیں شکایت اور احتجاج کی صورت میں جاری ہے اور کہیں جنگ اور ٹکر او کی صورت میں، بلکہ غیر معمولی کوشش اور بے پناہ قربانی کے باوجود مسلمانوں کی یکطرفہ بربادی بتاتی ہے کہ ہمارے رہنماؤں کا یہ فیصلہ حالات کے مطابق نہ تھا۔ یہ الٹے رخ پر سفر کرنے کے ہم معنی تھا۔ اب مسلمانوں کی رستگاری اور کامیابی کی ایک ہی صورت ہے، اور وہ بلاشبہ یوٹرن ہے۔ یعنی اپنی سوچ اور اپنی کوشش کے رخ کو بدلنا۔ جہاد کے رخ سے پلٹ کر دعوت کے رخ پر اپنی محنتیں صرف کرنا۔ یہی عقل کا تقاضا ہے اور یہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اسلامی عمل (Islamic activism) دراصل دعوتی عمل (Dawa activism) ہے۔ اسلام کا اقدامی عمل دعوت ہے نہ کہ جہاد یعنی ٹکر او۔ اسلام کا مقصد دوسری قوموں کو خدا کے دین رحمت کا مخاطب بنانا ہے نہ کہ ان کو دشمن قرار دے کر ان سے لڑائی شروع کر دینا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ کیوں کہ صبر کے بغیر دعوت کا عمل ممکن ہی نہیں۔ داعی کو مدعو کی زیادتیوں پر یکطرفہ صبر کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ آج مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ خارجی احتجاج کو چھوڑیں اور اپنی ساری طاقت داخلی تعمیر پر لگا دیں۔ دوسری قوموں کو وہ دشمن کے بجائے مدعو کے روپ میں دیکھیں، ہتھیاروں کو چھوڑ کر وہ اسلام کی نظریاتی طاقت پر بھروسہ کریں۔ سیاسی انقلاب کے بجائے اخلاقی انقلاب کو وہ اپنی جد وجہد کا نشانہ بنائیں۔ ٹکر او کے بجائے صبر و اعراض کی بنیاد پر وہ اپنی ملی پالیسی کی تشکیل کریں۔ قوموں کے خلاف بد دعا کرنے کے بجائے وہ سب کے حق میں دعائے خیر و ہدایت کا اہتمام کریں۔ الٹے رخ پر چل پڑنے والے مسافر کی نجات کا واحد طریقہ یوٹرن ہے۔ اسی طرح جو انسانی قافلہ الٹے رخ پر اپنی محنت صرف کرنے لگے، اس کی کامیابی کا یہی واحد راز یہ ہی ہے کہ وہ یوٹرن لے کر اپنی محنت کے رخ کو درست کرے۔ ورنہ اس دنیا میں اس کے لئے تباہی اور بربادی کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page