Urdu book · تصویر ملت

دانش مندی

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت آپ کے سامنے یہی مسئلہ تھا۔ مزید یہ کہ آپ دشمن کی نظروں سے بچنے کی خاطر یہ چاہتے تھے کہ معروف راستہ کو چھوڑ کر غیر معروف راستے سے اپنا سفر طے کریں۔ آپ کو ایک ایسے اچھے رہنما کی ضرورت تھی جو آپ کو مطلوب راستے سے چلا کر بہ حفاظت مدینہ پہنچا دے۔ اس وقت جو صورت پیش آئی اس کا ذکر سیرت ابن ہشام میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے : فاستاجر عبد الله بن ارقط، رجلاً (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے) من بنى الديل بن بكر، وكانت امة امرأة عبد الله بن ارقط سے اجرت پر معاملہ کیا۔ وہ بوند يل من بنى سهم ابن عمر و وكان مشركاً كايد لهما بن بکر کا ایک شخص تھا اور اس کی مال بنو سہم بن عمرو علی الطریق۔ سے تعلق رکھتی تھی ۔ عبد اللہ بن ارقط ایک مشرک (الجزر الثانی، صفحه ۹۸) تھا ۔ وہ راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کی رہنمائی کر رہا تھا ۔ عبد اللہ بن ارقط کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مشرک تھا۔ یعنی وہ رسول اللہ ﷺ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ صحرائی راستوں کا ماہر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ارقط کے ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ اسی لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ اس کو اپنے سفر کا رہنما بنائیں۔ اگر آپ اس کے رہنما ہونے کی حیثیت کو اس کے مشرک ہونے کی حیثیت سے الگ کر کے نہ دیکھتے تو کبھی ایسا نہ ہوتا کہ آپ ہجرت جیسے نازک سفر میں اس کو اپنے راستہ کار رہنما بنائیں ۔ انتقام نہ لینا دوسری مثال کے ذیل میں ہم ایک غیر مسلم کا واقعہ نقل کریں گے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کا مقابلہ اپنی زندگی سے کر کے دیکھیں کہ کیا وہ دانشمندی کے اس معیار پر پورے اترتے ہیں جو کبھی ایک غیر مسلم تک کے یہاں پایا جاتا تھا ۔ سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ حضرت حمزہ کے اسلام کے ذیل میں آیا ہے۔ نیکی دور میں ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے پاس تھے ۔ ابو جہل وہاں سے گزرا ۔ ابوجہل نے آپ کو برا بھلا کہا اور آپ کے ساتھ بد زبانی کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل خاموش رہے۔ عبد اللہ بن جدعان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page