Urdu book · تصویر ملت

جھوٹا فخر

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

جھوٹا فخر جس قوم کا ایک شاندار ماضی ہو اس کا بگاڑ ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے۔ یہ کہ اس کے اندر وہ نفسیات پیدا ہو جاتی ہے جس کو پدرم سلطان بود کہا جاتا ہے۔ آج مسلمانوں کا معاملہ یہی ہے۔ مسلمان جب دین کو کھو دیں تو اس کے بعد ان کے پاس صرف تاریخ باقی رہ جاتی ہے۔ ذاتی طور پر اسلام سے خالی ہونے کے بعد وہ یہ کرتے ہیں کہ گزرے ہوئے بڑے لوگوں کا نام لے کر فخر کرتے ہیں کہ ہم فلاں اور فلاں شخصیتوں سے نسبت رکھتے ہیں۔ ہم ایسے اور ایسے لوگوں کے وارث ہیں۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ خود پیغمبر تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ ان چیزوں کو بھی اپنے فخر کے خانہ میں لکھ لیتے ہیں جن کا تعلق خالصتہ نبوت سے ہے۔ مثال کے طور پر معراج کے واقعہ کے بارہ میں مسلم شاعروں کے یہ اشعار پڑھئے : سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں در دستِ جنون من جبریل زبوں صیدے یزداں بکند آور اے ہمتِ مردانہ پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزلِ سلمان کی تارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو آ ان اشعار میں بلند پروازی کا جو مضمون ہے وہ معراج کے واقعہ سے بطور تبلیغ پیدا کیا گیا ہے۔ یہ توسیع درست نہیں کیوں کہ معراج کے واقعہ کا تعلق پیغمبر سے ہے نہ کہ عام مسلمانوں سے۔ مگر مسلمانوں کی فخر پسندی ان کو یہاں تک لے گئی کہ جو چیز استثنائی طور پر صرف پیغمبر کو دی گئی تھی اس کو "ہمارے پیغمبر" کی منطق سے انھوں نے اپنے خانہ میں ڈال لیا۔ حتیٰ کہ اس معاملہ میں اپنے آپ کو پیغمبر سے بھی آگے بڑھا دیا۔ معراج کا واقعہ پیغمبر کے لئے عبودیت کا ایک تجربہ تھا۔ مگر مسلمانوں کے لئے وہ گردوں کوزہ میں لینا، خدا پر کمند ڈالنا، ستاروں کو گرد راہ بنانا، بن گیا۔ اسی کا نام جھوٹا فخر ہے اور جھوٹا فخر حقائق کی اس دنیا میں سب سے بڑی ہلاکت ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مرض یہی جھوٹا فخر ہے۔ جھوٹے فخر کی یہ نفسیات کبھی خاندان کی بنیاد پر پیدا ہوتی ہے۔ کبھی قوم اور مذہب کی بنیاد پر اور کبھی پیغمبر کا امتی ہونے کی بنیاد پر۔ مگر فخر کی تمام قسمیں سراسر باطل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی صرف وہ ہے جو وہ خود ہے نہ کہ وہ جو اس کے باپ دادا کبھی تھے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page