Urdu book · تصویر ملت

تین قسم

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

تین قسم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انسان تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ،ربانی عالم۔ دوسرے، وہ جو نجات کے راستہ کا طالب ہو۔ تیسرے، وہ ناکارہ اور پست لوگ جو ہر زور سے بولنے والے کے پیرو بن جائیں (الناس ثلاثة - عالم ربانی۔ و متعلم علی سبيل نجاة۔ وهمج رعاع اتباع کل ناعق) لسان العرب ۴/۲۰۳ عالم ربانی وہ ہے جو اپنے رب کو پا گیا ہو اور اس کی زندگی میں وہ اوصاف پیدا ہو گئے ہوں جو رب العالمین کی معرفت سے ایک آدمی کے اندر پیدا ہونے چاہئیں۔ دوسرا شخص وہ ہے جو سچا متعلم ہو۔ سچا متعلم بے فائدہ باتوں میں اپنا دماغ نہیں الجھاتا۔ وہ نجات اور فلاح کا متلاشی ہوتا ہے۔ اور اس تلاش میں اپنی پوری توجہ لگا دیتا ہے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ صحیح انسانی راستہ پر ہیں۔ وہ اپنے راستہ سے بھٹکتے نہیں۔ وہ وہی سوچتے ہیں جو انہیں سوچنا چاہیے ، اور وہی کر رہے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد وہ لوگ ہیں جو حقیقت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔ وہ ایک بات اور دوسری بات کا فرق نہیں جانتے ۔ وہ سچے کلام اور جھوٹے کلام میں تمیز نہیں کر سکتے۔ ان کے نزدیک اہمیت کی بات یہ نہیں ہوتی کہ کون شخص حق کی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بجائے ان کے یہاں ساری اہمیت اس کی ہوتی ہے کہ کون زیادہ زور سے چیختا ہے۔ کون زیادہ شاندار کلام کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کون زیادہ سے بڑے الفاظ بولنے کا کرتب دکھا رہا ہے۔ انسان کی یہ تینوں قسمیں پہلے بھی پائی جاتی تھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں مزید شدت سے وہ پائی جا رہی ہیں خاص طور پر تیسری قسم کے انسان کی مثال موجودہ زمانہ میں عام ہوگئی ہے۔ اس کا ایک خاص سبب پریس ہے۔ پریس کے دور نے اس قسم کے لوگوں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ پست اور ناکارہ ہونے کے باوجود غوغا لئی عمل کر کے شہرت حاصل کر لیں۔ اور پھر عوام کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ حضرت علیؓ کا قول موجودہ حالات پر مزید اضافہ کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page