Urdu book · تصویر ملت

اعلان ، اقدام

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کی اہمیت وان احد من المشرکین استجارك اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا مامنه ذالك بانهم قوم لا يعلمون کلام سن لے۔ پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پر (التوبة) پہونچا دو۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ عرب کے مشرکین جن سے آخری درجہ میں حالت جنگ قائم ہو چکی ہے، ان کے بارہ میں یہاں حکم دیا گیا کہ اگر ان میں سے کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور اسلام کی بابت جاننا چاہے تو اس کو اپنی حفاظت میں رکھ کر موقع دو کہ وہ اسلام کو سمجھے۔ نہ دشمنی کی وجہ سے اس کو قتل کرو اور نہ جاسوس سمجھ کر اس کو بھگا دو۔ وہ پرسکون طور پر تمہارے درمیان رہے اور اسلام کی تعلیمات کو سمجھے۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں : ذالك بانهم قوم لا يعلمون) ای الناشر عنا اس لیے کہ وہ علم نہیں رکھتے) یعنی اس قسم امان مثل هولاء ليعلموا دين الله وتنش کا لوگوں کے لیے امان کا طریقہ ہم نے اس لیے دعوة الله في عباده مقرر کیا تاکہ وہ اللہ کے دین کو جانیں اور اللہ (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحہ ۳۳) کی دعوت اس کے بندوں میں پھیلے۔ اس سورہ میں ایک طرف مشرکین سے برات کا اعلان ہے اور ان کے قتل کا حکم ہے۔ گویا ان کی دشمنی اس آخری درجہ پر پہونچ چکی ہے جب کہ برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اس وقت بھی یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر ان میں کا ایک شخص اسلام کی تحقیق کرنا چاہے تو اس کو تحقیق کا پورا موقع دیا جائے ۔ ایک شخص کے دل میں اگر قبول حق کا کوئی جذبہ ہے تو اس جذبہ کو بروئے کار آنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ شدت کے باوجود درمی، عضو کے باوجود انصاف کی یہی صلاحیت ہے جو کسی شخص کو خدا کے دین کا داعی بناتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page