بے آمیز حق
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
بے آمیز حق ایک ہے عوام کی رعایت کرنا۔ اور دوسرا ہے خدا کی رعایت کرنا۔ جو تحریک عوامی جذبات کی رعایت کرے وہ بہت جلد اپنے ماحول میں عزت اور مقبولیت حاصل کر لیتی ہے۔ اس کا سفر آسانیوں کے جلو میں طے ہوتا ہے۔ دوسری تحریک وہ ہے جو خدا کی مرضی کا لحاظ کر کے اٹھے۔ اس کو اپنے ماحول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلی قسم کی تحریک میں عوام اپنے جذبات سے ہم آہنگ پا کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کی تحریکیں ان کے مانوس ذہنی ڈھانچے کے خلاف ہوتی ہیں۔ اس سے ان کے مسلمات پر ضرب پڑتی ہے۔ اس لئے وہ اس کو قبول کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ ان کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی دعوت کو ہمارے مزاج کے موافق بناؤ۔ اور داعی جب ان کے مطالبہ کو پورا نہیں کرتا تو وہ اس کے سخت ترین دشمن بن کر ان کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی دوسری صورت تھی جو مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئی۔ آپ خالص توحید کے داعی تھے۔ مگر خالص توحید قریش کے لئے قابل قبول نہ ہو سکی۔ کیوں کہ اس سے ان کے بزرگوں پر ضرب پڑتی تھی۔ اس میں ان کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑتا تھا۔ اس میں ان کو ایک ایسی چیز کی طرف اقدام کرنا تھا جس میں انھیں اپنی تمام مصلحتوں کو نظر انداز کر دینا پڑے۔ چنانچہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ مصلحت کا انداز اختیار کریں۔ اپنی بات کو اس انداز سے پیش کریں کہ ہماری بات سے اس کا ٹکراؤ نہ ہو ( ہود ۱۱۲ ، بنی اسرائیل ۷۳ ، یونس ۱۵ ) ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بے آمیز حق کا داعی بننا مشکل ترین کام تھا۔ بشری تقاضے کے تحت یہ خیال آپ کے دل میں آ سکتا تھا کہ مخاطب کے ساتھ کچھ مصلحت اور رعایت کا انداز اختیار کیا جائے۔ مگر خدا کا حکم نہ تھا کہ ذرا بھی ان کی رعایت نہ کی جائے۔ صرف حق کی رعایت کی جائے اور خدا کے دین کو پوری طرح بے آمیز صورت میں پیش کیا جائے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں یہ حدیث آئی ہے۔ قال ابو بکر سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شيبك حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم شيبتني هود واخوانها چیز نے آپ کو بوڑھا کر دیا۔ آپ نے فرمایا مجھ کو ہود اور اس کے مثل سورتوں نے بوڑھا کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader