تصویر ملت
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
عظیم کو مٹاہی ۱۹۱۶ میں آل انڈیا کانگریس کا سالانہ اجلاس لکھنو میں ہوا۔ اس اجلاس میں گاندھی جی پہلی بار کانگریس کے اسٹیج پر نمایاں ہوئے۔ گو پی نا تھ امن لکھنوی بھی اس تاریخی اجلاس میں ایک جوشیلے نوجوان کی حیثیت سے موجود تھے۔ ان کی روایت کے مطابق اس وقت کے انگریز گورنر سر جیمس مسٹن نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔ وہ اسٹیج پر کھڑے ہوئے تو انہوں نے گوپی ناتھ امن کے الفاظ میں شستہ اردو میں تقریر کی جو اس وقت سامعین کے لئے بڑی دلچسپ ثابت ہوئی (صدق جدید ۱۹ اگست ۱۹۸۳ ) برطانی راج کے زمانہ میں بہت سے انگریزوں نے اردو ( یا ہندوستانی زبان ) سیکھی تھی۔ ان کے لئے اردو زبان سیکھنے کا محرک اگر چہ تمام تر سیاسی تھا۔ مگر اس نے ہمارے علماء کے لئے تبلیغ دین کا زبر دست موقع پیدا کر دیا تھا۔ وہ علماء جو دین سے واقف تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے، وہ کم انکم اردو داں انگریزوں سے مل کر ان کو خدا کے سچے دین سے واقف کرا سکتے تھے۔ اس طرح کچھ انگریزوں تک براہ راست طور پر اور بقیہ انگریزوں تک بالواسطہ طور خدا کا پیغام پہنچ جاتا اور وہ اپنی دعوتی ذمہ داری سے خدا کے یہاں سبک دوش ہو جاتے۔ مگر ایک پورا دور ختم ہو گیا۔ اور اس قیمتی امکان کو استعمال نہ کیا جا سکا۔ اس کی وجہ مواقع کی کمی نہیں بلکہ جذبہ کی کمی تھی۔ انگریز جب ہندوستان میں آئے تو ہمارے علماء ان کو قومی دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ انگریزوں کے لئے نفرت اور حقارت کا موضوع بن گئے۔ انگریزوں کے بارہ میں ہمارے علماء کے اندر قومی نفسیات تو پیدا ہوئی مگر ان کے اندر انگریزوں کے بارہ میں دعوتی نفسیات پیدا نہ ہوسکی۔ دعوت کا کام دوسرے لفظوں میں مدعو کو جنت کا راستہ دکھانے کا کام ہے۔ اس قسم کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کے اندر اپنے مخاطب کے لئے محبت اور خیر خواہی کا بے پناہ جذبہ پایا جاتا ہو۔ علماء جب انگریزوں سے نفرت کر رہے تھے تو وہ ان کو دعوت حق کا مخاطب نہیں بنا سکتے تھے۔ ہمارے علماء کی یہی عظیم الشان کوتاہی ہے جس کی سزا انہیں یہ ملی کہ وہ لوگ جنہوں نے آزادی کی جد وجہد میں آگے بڑھ کر قربانیاں دی تھیں۔ جب ملک آزاد ہوا تو وہ یہاں سب سے پیچھے کی صف میں دھکیل دئے گئے۔ غلام ہندوستان کے ” امام آزاد ہندوستان کے ”مقتدیٰ“ بن کر رہ گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader